حماس کے خلاف سخت اقدامات کرنے پرفلسطینی صدر محمود عباس کا غور

فلسطینیوں میں جاری ایک دہے سے اختلافات آنے والے مہینوں میں ایسا محسوس ہوتاہے کہ شدت اختیار کرلیں گے ‘جبکہ صدر محمود عباس اسلام پسند حکمراں حماس پر دباؤ ڈالنے غزہ کے خلاف متعدد اقدامات کے لیے تیار ہیں ۔ ان اقدامات سے غزہ کے دو ملین شہریوں کے مصائب میں مزید اضافہ پر تشویش پیدا ہوگئی جو پہلے ہی سے اسرائیلی محاصرہ کا شکار اور شدید برقی قلت سے بھی گذررہاہے ۔ ان حالات میں محبوس حماس اسرائیل کے خلاف از سر نو تشدد کاآغاز کرسکتی ہے ۔ مبصرین کا کہناہے کہ ان اقدامات سے حماس کے زیر انتظام غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارہ کے درمیان اختلافات میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ عباس کی حکومت کی محدود خود حکمرانی ہے ۔ حماس اور عباس کے سیکولر فتح پارٹی کے درمیان اس وقت سے اختلافات رہے ہیں جبکہ اسلام پسندوں نے 2007 کی خانہ جنگی سے قبل عباس کی فوج سے غزہ کا کنٹرول چھین لیاتھا ۔ اس سے ایک سال قبل دور رس پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے تھے اس وقت سے حماس نے اسرائیل کے ساتھ تین خونریز جنگیں لڑی تھیں اور چوتھی کااندیشہ برقرار ہے ۔ فلسطینی گروپس کے درمیان مفاہمت کی متعدد کوششیں ناکام ہوگئیں لیکن مصر نے یہ سمجھا تھا کہ 2017 میں ایک اہم کامیابی حاصل کی جبکہ دونوں فریقین نے بالآخر اقتدار شراکت داری سے اتفاق کرلیاتھا ۔ اس سمجھوتہ کے حصہ کے طور پر حماس غزہ اور مصر اور اسرائیل کے درمیان سرحدی گذرگاہ سے دستبردار ہوگیاتھا جبکہ فتح کی زیر غلبہ فلسطینی اتھاریٹی کو لوٹنے کی اجازت ملی اور مصری سرحد دوبارہ باقاعدہ طور پر کشادہ ہونے والی تھی ۔ مفاہمتی سمجھوتہ تلخی کے ساتھ ختم ٹھپ ہوگیاتھا ۔ اتوار کو فلسطینی اتھاریٹی نے مصری سرحدی گذر گاہ سے دستبردارہونے کااعلان کرتے ہوئے قاہرہ کے لیے ایک تذبدب کی کیفیت پیدا کردی تھی کہ آیا اسے حماس کے زیر کنٹرول کھلا چھوڑا جائے یا نہیں ۔ تاحال اس بات کااظہار ہواہے کہ وہ اسے کھلاچھوڑ دیں گے ۔ عباس کے قریبی سینئر عہدیداروں نے بتایا کہ وہ حماس کو سزا دینے کے لیے دیگر اقدامات کاجائزہ لے رہے ہیں ۔ جن میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان کراسنگ سے عملہ کو ہٹالینا اور صیہونی حکومت کے لیے کسی بھی چیز کے اس علاقہ میں داخلہ کو راست طو رپر حماس سے لین دین کے بغیر اجازت دینا دشوار ہوسکتاتھا جبکہ اسرائیل اور دیگر متعدد ممالک حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں ۔ ان اقدامات میں فلسطینی قیدیوں کے خاندانوں کی تنخواہوں میں کٹوتی اور حماس کے ملازمین کے پاسپورٹس کی تنسیخ بھی شامل ہے ۔ عباس نے عہد کیاہے کہ وہ حماس کے زیر غلبہ فلسطینی پارلیمنٹ کو تحلیل کردیں گے اگرچیکہ اس کا 2007 سے اجلاس منعقد نہیں ہواہے جبکہ اختلافات نئے قوانین کی بنیاد پر اس وقت بھی معمولی ہیں۔

جواب چھوڑیں