دہلی میں اقلیتی امیدواروں کو حجاب اور کرپان سے نہ روکا جائے: اقلیتی کمیشن

دہلی اقلیتی کمیشن نے حکومت دہلی کے محکموں سے کہا ہے کہ بھرتی اور امتحانوں کے وقت اقلیتی امیدواروں کو ان کے مذہبی عقیدہ کے مطابق لباس پہننے دیاجائے۔ کمیشن کے حکم پر جنرل اڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (بی اے ڈی) نے تمام پرنسپل سکریٹریز اور محکموں کے سربراہوں کو سرکیولر جاری کیا ہے کہ امتحانات میں شرکت کرنے والے اقلیتی امیدواروں کے ڈریس کوڈ کے معاملہ میں مناسب اقدام کیاجائے۔ صدرنشین دہلی اقلیتی کمیشن ظفرالاسلام خان نے جو مدیرالرسالہ مولانا وحیدالدین خاں کے بڑے فرزند ہیں بتایاکہ کمیشن نے اقلیتی برادریوں سے شکایت ملنے پر حکم جاری کیاتھا۔ کمیشن نے اپنے حکم میں کہا کہ مسلم خواتین کو حجاب(ہیڈاسکارف) کے مذہبی حق سے محروم نہیں کیاجاسکتا۔ انہیں پوری آستین والا لباس بھی پہننے دیاجائے۔ سکھوں کو چھوٹا کرپان ساتھ رکھنے دیاجائے۔ امتحانات کے دوران سیکیوریٹی احتیاط برتنا بالکل ضروری ہے لیکن اقلیتی طلباء اور امیدواروں کا مفاد متاثر نہ ہو۔ تلاشی لینا جہاں بھی ضروری ہوامیدواروں کو پیشگی بتادیاجائے کہ وہ نصف گھنٹہ پہلے آجائیں۔ تلاشی لینے والا عملہ مسلم خواتین کے حجاب کی جانچ کرسکتا ہے۔ کمیشن نے گذشتہ ماہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن(یوجی سی) کونوٹس جاری کی تھی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ( جے ایم آئی) کی ایک طالبہ کو حجاب کی وجہ سے یوجی سی نیٹ امتحان لکھنے سے روکا گیا۔

جواب چھوڑیں