سعودی خاتون پناہ کے بعدکناڈا پہنچ گئی

کناڈا کی وزیر برائے خارجہ امور کرسٹیا فریلینڈ نے سعودی خاتون ایک نئی بہادر کینیڈین کے طور پر متعارف کروایا۔اپنے خاندان کو چھوڑنے اور بنکاک ایئرپورٹ پر پھنس جانے والی سعودی شہری رہف القنون کو پناہ ملنے کے بعد اور وہ کینیڈا پہنچ گئی ہیں۔18 سالہ رہف محمد القنون براستہ بنکاک آسٹریلیا جانا چاہتی تھی لیکن انھیں پہلے کویت واپس جانے کے لیے کہا گیا جہاں ان کا خاندان ان کا انتظار کر رہا تھا۔انھوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور ایئرپورٹ کے ہوٹل کے ایک کمرے میں خود کو بند کر لیا، جس سے انھیں بین الاقوامی توجہ بھی حاصل ہوئی۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ اسلام ترک کر چکی ہیں، اور انھیں ڈر ہے کہ اگر انھیں زبردستی سعودی عرب واپس بھیج دیا گیا تو ان کا خاندان انھیں قتل کر دے گا۔ سعودی عرب میں ارتدادِ اسلام کی سزا موت ہے۔کینیڈا کی وزیر برائے خارجہ امور کرسٹیا فریلینڈ نے سعودی خاتون ’ایک نئی بہادر کینیڈین‘ کے طور پر متعارف کروایا تاہم ان کا کہنا تھا کہ رہف القنون ایک لمبے سفر اور آزمائش کے بعد تھکن سے چْور ہیں اور سنیچر کو کوئی بیان نہیں دیں گی۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک بہت بہادر خاتون ہیں جنھوں نے بہت کچھ سہہ لیا ہے۔ اور وہ اب اپنے نئے گھر میں جا رہی ہیں۔‘کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس سے قبل صحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے ملک نے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کی جانب سے پناہ دینے کی درخواست کو قبول کر لیا ہے۔اْنھوں نے کہا کہ ’’ایک اکیلی خاتون یا بچی ایسی صورت حال میں ہو؛ اْن کا معاملہ کئی (معاملوں) پر بھاری ہے‘‘۔فری لینڈ نے مزید کہا کہ القنون کو پناہ دینے کا اقدام ’’کینیڈا کی اْس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد کینیڈا اور دنیا بھر کی خواتین کی حمایت کرنا ہے‘‘۔اپنی آمد کے بعد، رہف القنون تھوڑی دیر کے لیے اخباری نمائندوں کے سامنے آئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *