فینانس کمیشن کے رول کو بدلنے کی ضرورت : کے سی آر

ریاستوں کو فنڈس کی منتقلی کیلئے فینانس کمیشن کے رول پر نظر ثانی کی حمایت کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ بہتر رہے گا کہ اگر فینانس کمیشن کو پالیسی ساز ادارہ بنایا جائے ۔15 ویں کمیشن کے دورہ ریاست سے قبل کے سی آر نے ہفتہ کو عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ کمیشن طئے شدہ ذہن کے ساتھ ریاستوں کا دورہ کرتا ہے اس کی تجاویز پہلے سے طے شدہ ہوتی ہیں بہتر رہے گا کہ کمیشن کو پالیسی ساز ادارہ بنایا جائے ریاستوں کی ضروریات میں بہت بڑا فرق ہے ۔ بہتر رہے گا کہ کمیشن کو ایک پالیسی ساز ادارہ بنایا جائے ۔ فنڈس کا حصول ریاستوں کا حق ہے ۔ ریاستوں کی ضروریات، حصولیات کے بارے میں جو کہا جاتا ہے ، اس میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ فینانس کمیشن کو ہندوستانی معیشت کو ڈگر پر لانے کے بارے میں غور کرنا ہوگا تاکہ شرح نمو میں اضافہ ہوسکے کمیشن کے رول کو مکمل طور پر بدلنا چاہئے اور اس کا رول معمول کی کارکردگی کا عمل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوںنے اس خیال کا اظہار کیا کہ فنڈس کیلئے ایسی پالیسیاں بنائی جارہی ہیں جس سے ریاست کی توہین ہوتی ہے اور اس کے اختیارات کم ہوتے ہیں۔ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ نیتی آیوگ کے ایک اجلاس میں وہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ریاستوں کی ترقی میں مرکز کو روکاٹ بننا نہیں چاہئے ۔ ریاست کی ترقی کو ملک کی ترقی تصور کرنا چاہئے ۔ انہوںنے دعویٰ کیا کہ آزادی کے بعد سے ملک میں معیاری تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ا ب وقت آگیا ہے کہ اس پر محاسبہ کیا جائے ۔ آزادی کے بعد مرکز اور ریاستوں میں مختلف حکومتیں تشکیل پائیں۔ مختلف جماعتیں برسر اقتدار آئیں اس کے باوجود کوئی معیاری تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ اس لئے کمیشن کو محاسبہ کا یہ بہترین وقت ہے کے سی آر نے اس بات پر ناخوشی کااظہار کیا کہ عوام حکومتوں کی پالیسیوں کے خلاف مایوسی کا اظہار کیوں کرتے ہیںاور حکومتوں کے خلاف سراپا احتجاج کیوں بن جاتے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے محکمہ فینانس کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ریاست کی ضروریات کے مطابق ایک میمورنڈم تیار کریں تاکہ کمیشن کو یہ میمورنڈم پیش کیا جاسکے ۔

جواب چھوڑیں