ہندوستان‘ افغانستان کی معاشی تعمیر نو کا پابند:سشماسوراج

ہندوستان نے اتوار کے دن کہا کہ وہ افغانستان کی معاشی تعمیر نو کا پابند ہے۔ وہ افغانستان کی زیرقیادت امن اور صلح صفائی کوبڑھاوادینے کا بھی پابند ہے۔ ہندوستان کا یہ موقف وزیرخارجہ سشما سوراج نے یہاں تاریخی انڈیا۔سنٹرل ایشیاء ڈائیلاگ میں رکھا۔ افغانستان بھی اس ڈائیلاگ میں شریک ہے جس میں مختلف علاقائی امور پر توجہ مرکوز کی گئی۔ سشما سوراج نے کہا کہ میں خاص طور پر نشاندہی کرناچاہوں گی کہ ہمارے خطہ کو دہشت گردی سے سنگین چیالنجس کا سامنا ہے۔ ہندوستان وسط ایشیاء اور افغانستان وہ معاشرے ہیں جو روادار اور تکثیری ہیں۔ دہشت گرد نفرت کی جس آئیڈیالوجی کو پھیلاناچاہتے ہیں اس کے لئے ہمارے سماجوں میں کوئی جگہ نہیں۔سشما سوراج ہند۔وسط ایشیاء ڈائیلاگ کے پہلے اجلاس سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ یہ دہشت گرد کون ہیں، ان کی فنڈنگ کون کرتا ہے، یہ باقی کیسے رہتے ہیں۔ ان کا تحفظ اور سرپرستی کون کرتا ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ ملک میں کوئی کاروبار ، کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔ ہمارے خطہ میں تجارت کو بڑھاوا دینے ہمیں دہشت گردی کی لعنت سے مل جل کرلڑنا ہوگا۔ دہشت گردی ترقی کے تمام مواقع بربادکردیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان خطہ کے ممالک کو قریب لاسکتا ہے۔ ہم جغرافیائی لحاظ سے ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ فضائی رابطہ کی اصطلاح میںدیکھاجائے تو ہم صرف تین گھنٹے دور ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ موثرٹرانزٹ روٹس بنائی جائیں اور موجودہ مواقع کا بھرپوراستعمال کیاجائے۔ ہندوستان نے انڈیا۔ سنٹرل ایشیاء ڈیولپمنٹ گروپ قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ ہندوستان اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان ترقیاتی شراکت داری کو بڑھاوا ملے۔ وزیرخارجہ ہند نے کہا کہ ہندوستان ‘ایران اور افغانستان کی مشترکہ کوششوں سے ایران کی بندرگاہ چابہار فروغ پارہی ہے جو افغانستان اور بالخصوص وسط ایشیاء کیلئے قابل عمل روٹ ہے۔ ہندوستان چابہار پورٹ کے ذریعہ گیہوں کی بڑی کھیپ افغانستان کو بھیج چکا ہے۔ گذشتہ ماہ ایک ہندوستانی کمپنی نے اپنا دفتر کھولا اور وہ چابہار میں شہید بہشتی پورٹ کے امور سنبھال رہی ہے۔ ہندوستان چابہار۔زاہدان ریلوے لنک کو فروغ دینے کابھی خواہاں ہے۔ اس سے زرنج۔دل آرام روڈ لنک قریب ہوجائے گا جسے ہندوستان نے افغانستان میں بنایا ہے۔ سشما سوراج نے کہا کہ ہندوستان افغان عوام اور حکومت افغانستان کی کوششوں میں ان کا معاون ہے تاکہ متحدہ جمہوری پرامن مستحکم اور خوشحال ملک افغانستان بنے۔ ہندوستان نے افغانستان کو زائداز3بلین امریکی ڈالر کی ترقیاتی امداد دی ہے۔ ہندوستان اور وسط ایشیائی جمہوریاؤں کی تاریخ اورثقافتی روابط مشترک ہیں۔ ڈائیلاگ میں کرغستان ، تاجکستان اورترکمنستان کی وزرائے خارجہ کے علاوہ قازقستان کے اول نائب وزیرخارجہ بھی شرکت کررہے ہیں۔ ہندوستان اورپانچ وسط ایشیائی جمہوریاؤں نے افغانستان کے ساتھ مل کر اتوار کو دہشت گردی کے تمام اشکال کی مذمت کی۔انہوں نے اس برائی سے نمٹنے میں تعاون پر آمادگی ظاہرکی جو دنیا بھر کے ممالک کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ہند۔وسط ایشیاء ڈائیلاگ کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں یہ بات کہی گئی۔ بیان میں کہاگیاکہ تمام شرکاء نے دہشت گردی کی تمام اشکال کی مذمت کی اور اس سے نمٹنے پر تعاون پرآمادگی ظاہرکی۔

جواب چھوڑیں