شہریوں کی جاسوسی‘ مرکز کو سپریم کورٹ کی نوٹس

سپریم کورٹ نے پیر کے دن ایک درخواست پر مرکز کو نوٹس جاری کی جس میں 10 مرکزی ایجنسیوں کو کسی بھی کمپیوٹر سسٹم پر نظر رکھنے کا اختیار دینے کے اعلامیہ کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے مرکز سے اندرون 6ہفتے جواب مانگا ہے۔ حکومت کے 20 دسمبر کے اعلامیہ کو چیلنج کرتی درخواست مفاد عامہ‘ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی بنچ پر زیرسماعت آئی۔ اعلامیہ کے بموجب 10 مرکزی ایجنسیوں کو انفارمیشن ٹکنالوجی قانون کے تحت کمپیوٹر انٹرسیپشن اور انالیسس کا اختیار دیا گیا۔ 10 ایجنسیوں میں انٹلیجنس بیورو(آئی بی)‘ نارکوٹکس کنٹرول بیورو(این سی بی) ‘ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی)‘ سنٹرل بورڈ آف ڈائرکٹ ٹیکسس (سی بی ڈی ٹی) ‘ ڈائرکٹوریٹ آف ریونیو انٹلیجنس(ڈی آر آئی) ‘ سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن(سی بی آئی)‘ ریسرچ اینڈ انالیسس وِنگ (را) ‘ ڈائرکٹوریٹ آف سگنل انٹلیجنس (جموں وکشمیر‘ شمال مشرق اور آسام کے علاقوں کے لئے) اور کمشنر دہلی پولیس شامل ہیں۔ وکیل منوہر لال شرما کی داخل کردہ درخواست میں اعلامیہ کو غیرقانونی اورغیردستوری قراردیا گیا۔ درخواست گذار نے گذارش کی کہ ایجنسیوں کو کسی بھی فوجداری کارروائی سے روکا جائے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ اعلامیہ سے مملکت کو ہر مراسلت‘ ہر کمپیوٹر اور ہر موبائل تک رسائی کا حق مل گیا ہے جسے وہ سیاسی مفاد کے تحفظ کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔ حکومت کے اس اقدام پر سیاسی ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا تھا کہ مرکز‘ سرویلانس اسٹیٹ / نگراں مملکت) بنانے کی کوشش میں ہے۔

جواب چھوڑیں