مرکز پر اے پی میں صدر راج کے نفاذ کی دھمکی کا الزام:چندرابابونائیڈو

آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو نے الزام عائد کیا کہ مرکز‘ ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے مگر کوئی بھی اس طرح کی دھمکی سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نریندرمودی ’’منفی رجحان کے حامل‘‘ قائد ہیں جن کی قیادت میں ملک تنزلی کا شکار ہورہا ہے۔ ٹیلی کانفرنس کے ذریعہ تلگودیشم پارٹی قائدین اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے چندرابابونائیڈو نے وزیراعظم اور بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مودی اور بی جے پی نے آندھراپردیش کیلئے کچھ بھی خاص نہیں کیا ہے۔ ہرہفتہ ایک مرکزی وزیر ریاست کا دورہ کرتے ہوئے یہ کہے گا کہ ریاست کیلئے کیا اچھا کیا گیا ہے مزید برآں وہ‘ ریاست آندھراپردیش میں صدر راج کے نفاذ کی دھمکیاں دیں گے۔ مگر یہاں ‘ مرکزی حکومت کی ان دھمکیوں سے کوئی ڈرنے والا نہیں ہے۔ دو دن قبل کولکتہ میں منعقدہ مخالف بی جے پی اپوزیشن ریالی کے بارے میں تلگودیشم پارٹی کے سربراہ چندرابابونائیڈو نے کہا کہ اپوزیشن کی یہ ریالی‘ مطلق العنان اور آمرانہ حکومت کے خاتمہ کا آغاز ہے۔ نائیڈو نے کہا کہ ہم امراوتی میں بھی کولکتہ کی طرح ریالی کا اہتمام کریں گے جس میں تمام مخالف بی جے پی 22پارٹیوں کے قائدین شرکت کریں گے۔ چندرابابونائیڈو نے تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر اور ریاست کے قائد حزب اختلاف و وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سربراہ جگن موہن ریڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ دونوں قائدین نریندرمودی کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹی آر ایس اور وائی ایس آر سی پی‘ پسماندہ طبقات کو تلگودیشم پارٹی سے دور کرنے اور ان طبقات کو حکومت اے پی سے بدظن کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات متحدہ طورپر اس سازش کو ناکام بنادیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *