گذشتہ عام انتخابات میں ای وی ایمس کے ذریعہ دھاندلیاں

امریکہ میں مقیم ایک خود معلنہ ہندوستانی‘ سائبر ماہر سید شجاع نے آج یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ 2014 میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں‘ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں( ای وی ایمس) کے ذریعہ ’’ دھاندلی‘‘ کی گئی۔ شجاع نے کہاکہ ای وی ایمس کو ہیک کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اِس الزام کی تردید کردی ہے۔ شجاع نے اسکائپ کے ذریعہ لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ 2014 میں ہندوستان سے فرار ہوا کیونکہ اُس کی ٹیم کے بعض ارکان کی ہلاکت کے بعد وہ ہندوستان میں اپنے لئے جوکھم محسوس کررہا تھا۔وہ اگرچہ (آج) اسکائپ کے ذریعہ اسکرین پر پیش ہوا‘ اُس کے چہرہ پر نقاب تھا۔ شجاع نے جو امریکہ میں سیاسی پناہ کی مانگ کی کررہا ہے‘ دعویٰ کیاکہ مشہور ٹیلی کام ادارہ ’’ ریلائنس جیو‘‘ نے ‘ ای وی ایمس ہیک کرنے‘ کم فریکیونسی والے سگنلس حاصل کرنے میں بی جے پی کی مدد کی۔ مذکورہ شخص نے اپنے دعویٰ کی تائید میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔یہاں یہ بات بتلادی جائے کہ جیو(Jio) 2014 میں کارکرد نہیں تھا اور اُس کی سرویسس کا آغاز ستمبر 2016 میں ہوا۔شجاع نے یہ بھی الزام لگایاکہ بی جے پی سے ہٹ کر ایس پی‘ بی ایس پی‘ عام آدمی پارٹی اور کانگریس بھی ای وی ایمس کی دھاندلی میں ملوث رہے۔مذکورہ پارٹیوں میں سے کسی بھی پارٹی نے اپنے فوری رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے ۔ انڈین جرنلسٹس اسوسی ایشن( یوروپ) کی زیر سرپرستی منعقدہ پریس کانفرنس میں شجاع کو پیش کیا گیا۔ اُس نے بتایاکہ حال ہی میں راجستھان‘ چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کامیاب ہوتی اگر اُس کی ( شجاع کی) ٹیم نے اِن ریاستوں میں ’’ ٹرانسمیشنس کو ہیک کرنے کی‘ زعفرانی پارٹی کی مبینہ کوششوں کو راہ میں نہ روکا ہوتا‘‘۔ اسی دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ‘ چھپے ہوئے خنجر کے ساتھ کئے گئے مذکورہ عجیب وغریب دھماکو دعوؤں کو یکلخت مسترد کرتے ہوئے پرزور اندا ز میں کہا ہے کہ وہ ( کمیشن) اپنے اِس موقف پوری مضبوطی سے قائم ہے کہ اُس کی ای وی ایمس ’’ نقائص ‘‘ سے پاک ہیں۔کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اِس امر کی جانچ کررہا ہے کہ مذکورہ معاملہ میں کیا قانونی کارروائی ’’کی جاسکتی ہے اور کی جانی چاہئے‘‘۔ نئی دہلی میں جاری کردہ ایک بیان میں الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ ’’ محرکات پر مبنی کیچڑ اُچھالنے کے اِس معاملہ میں ایک فریق بننے کے بارے میں محتاط؍ چوکس ہے‘‘۔ وہ ( کمیشن) ہندوستان میں انتخابات میں استعمال کردہ ’’ ای سی آئی ‘ ای وی ایمس کے نقائص سے پاک ہونے کے بارے میں عملی حقائق ‘‘پر سختی سے قائم ہے۔ الیکشن کمیشن نے اعادہ کیا کہ اُس کے استعمال کردہ ای وی ایمس‘ بھارت الکٹرانکس لمیٹیڈ( بی ای ایل) اورا لیکٹرانکس کارپوریشن آف انڈیا( ای سی آئی ایل) کے تیار کردہ ہیں۔ یہ دونوں ادارے سرکاری زیر ملکیت ہیں اور ’’ نہایت سخت‘‘ نگرانی اور سیکورٹی حالات کے تحت کام کرتے ہیں۔ 2010 میں قائم کردہ ٹیکنیکل ماہرین کی ایک کمیٹی کی نگرانی کے تحت تمام مرحلوں پر ‘ کارکردگی کے انتہائی اعلیٰ میعار کی ’’ نگرانی بہت باریکی سے کی جاتی ہے‘‘۔شجاع نے دعویٰ کیا کہ وہ ای سی آئی ایل کی ایک ٹیم کا حصہ تھا اور اُس نے 2009 تا 2014‘ ای سی آئی ایل کیلئے کام کیا تھا۔ اُس نے بتایاکہ وہ ‘ اُس ٹیم کا حصہ تھا جس نے 2014 کے انتخابات میں استعمال کردہ ای وی ایمس کا ڈیزائن تیار کیا تھا۔ اُس نے یہ بھی کہاکہ اُس کو اور اُس کی ٹیم کو ای سی آئی ایل نے ہدایت دی تھی کہ یہ معلوم کیا جائے کہ آیا ای وی ایمس کو ہیک کیا جاسکتا ہے اور یہ کام کس طرح کیا جاسکتا ہے۔(سلسلہ صفحہ 3پر)

جواب چھوڑیں