مودی نے آندھراسے لوٹ کر امبانی کو دیا: راہول گاندھی

آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو کی کل یومی بھوک ہڑتال کی مکمل تائید وحمایت کا اعلان کرتے ہوئے صدر کانگریس راہول گاندھی نے پیر کو الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے ریاستی عوام کے پیسہ کا سرقہ کرتے ہوئے مسروقہ رقم کو صنعت کار انیل امبانی کے حوالے کیا ہے۔ تلگودیشم پارٹی کے قومی صدر این چندرابابونائیڈو ملک کے صدر مقام نئی دہلی میں ایک روزہ بھوک ہڑتال منظم کر رہے ہیں۔ ریاست کو خصوصی موقف دینے اور اے پی تنظیم جدید ایکٹ بابتہ 2014میں کئے گئے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کرتے ہوئے نائیڈو نے نئی دہلی کے اے پی بھون میں ایک دن کی بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ بھوک ہڑتال کیمپ پر رافیل معاملت کا تذکرہ کرتے ہوئے راہول نے کہا کہ وزیراعظم نے آندھراپردیش کے عوام سے لوٹی ہوئی رقم کو صنعت کار انیل امبانی کو دیا ہے۔ یہی حقیقت ہے۔ انہوں نے یہاں اے پی بھون میں نائیڈو کی بھوک ہڑتال کی تائید کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ تاہم حکومت اور امبانی نے راہول کے ان الزامات کو خارج کردیا کہ رافیل معاملت میں بدعنوانیاں ہوئی ہیں۔ گاندھی نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی‘ آندھراپردیش بھی جاتے ہیں اور وہ جہاں کہیں جاتے ہیں وہاں جھوٹ بولتے ہیں۔ خصوصی موقف پر بھی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ مودی‘ شمال ۔مشرقی ریاستوں کو جاتے ہیں اور وہ وہاں بھی ایک اور جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ مہاراشٹرا جاتے ہیں وہاں بھی ایک نیا جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کی باتوں پر قطعی اعتبار نہیں رہا۔ راہول گاندھی نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو مہینوں میں اپوزیشن جماعتیں مودی کو صاف یہ دکھائیں گے کہ ملک کے عوام کے جذبات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہوچکی ہیں یقیناً ہم بی جے پی اور مودی کو شکست دیں گے۔ چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابونائیڈو نے پیر کو 8بجے صبح سے اے پی بھون میں ایک روزہ بھوک ہڑتال شروع کی۔ اپنی تقریر میں نائیڈو نے کہا کہ ’’اگر آپ ہمارے مطالبات کی یکسوئی نہیں کریں گے تو ہم کو معلوم ہے کہ کس طرح مطالبات کو منوایا جاتا ہے‘‘ یہ‘ آندھراپردیش کے عوام کی عزت نفس سے جڑا مسئلہ ہے۔ جہاں کہیں عوام کی عزت نفس پر حملہ ہوگا ہم اس کو قطعی برداشت نہیں کریں گے۔ بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بتاتے ہوئے چندرابابونائیڈو نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندرمودی ریاست کو خصوصی موقف نہ دیتے ہوئے راج دھرم کا پالن نہیں کر رہے ہیں۔ اے پی تنظیم جدید ایکٹ میں ریاست آندھراپردیش سے کئے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر نریندرمودی‘ ان کی ریاست کے عوام پر شخصی تنقید کریں گے تو انہیں (وزیراعظم) موزوں جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ مودی نے گجرات میں (2002کے فسادات کے دوران ) راج دھرم کا پالن نہیں کیا اور اب آندھراپردیش کے مسئلہ پر بھی وہ راج دھرم نہیں نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز‘ اے پی کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہے اور اس کے اثرات قومی یکجہتی پر مرتب ہوں گے۔ نائیڈو نے کہا کہ ’’ریاست کے 5کروڑ عوام کے توسط سے وہ اس مرکزی حکومت کو انتباہ دیتے ہیں۔ وہ یہاں اس لئے آئے ہیں کہ اے پی تنظیم جدید ایکٹ میں ریاست کے ساتھ کئے گئے وعدوں سے مرکز کو ایک بار پھر واقف کرادوں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو وارننگ دیتا ہوں کہ مجھ پر اور میری عوام پر شخصی حملے مت کرو۔ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے وہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ہم آپ سے وہی مطالبہ کر رہے ہیں جو آپ نے وعدہ کیا ہے۔ اگر کوئی ہماری عزت نفس پر حملہ کرتا ہے تو ہم قطعی برداشت نہیں کریں گے۔ تلگودیشم پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے احاطہ میں پارٹی کو احتجاج منظم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اس لئے ہم اے پی بھون میں بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے سے قبل نائیڈو نے راج گھاٹ پر مہاتما گاندھی اور اے پی بھون میں ڈاکٹر امبیڈکر کو بھرپور خراج پیش کیا۔ چندرابابونائیڈو کی زیر قیادت ٹی ڈی پی کا ایک وفد منگل کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو ایک یادداشت پیش کرے گا۔ آئی اے این ایس کے بموجب چیف منسٹر اے پی چندرابابونائیڈو نے جو سیاہ شرٹ زیب تن کئے تھے‘ کہا کہ ریاست کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کے خلاف یہ بھوک ہڑتال منظم کی جارہی ہے۔ یہاں اے پی بھون میں دھرما پوراٹا دیکشا کا آغاز کرتے ہوئے نائیڈو نے وزیراعظم کو انتباہ دیا کہ وہ شخصی حملے روک دیں۔ مودی کو وعدوں کی تکمیل کیلئے فوری طورپر اقدامات شروع کرنا ہوگا کیونکہ اب صرف دو دن ہی باقی بچے ہیں۔ ان دو دنوں میں ہی مودی کو ریاست کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے فوری طورپر عملی اقدامات کرنا ہوگا۔ نائیڈو‘ کا اشارہ غالباً پارلیمنٹ کے جاری بجٹ سیشن کی طرف تھا۔ لوک سبھا انتخابات سے قبل ممکن ہے کہ یہ آخری سیشن رہے گا۔ نائیڈو نے انتباہ دیتے کہا کہ اگر حکومت‘ وعدوں کی تکمیل میں ناکام ریاستی ہے تو بھارتیہ جنتا پارٹی کا مستقل طورپر آندھراپردیش میں بائیکاٹ کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں