تالابوں کو آپس میں ملا نے کی جامع رپورٹ تیار کرنے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤکی ہدایت

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج اس خواہش کا اظہار کیا کہ مشن کاکتیہ کے ذریعہ کا کتیہ دورمیں تعمیر کردہ تالابوں کی عظمت رفتہ کو بحال کریں گے ۔ تلنگانہ میں کاشت کاری کا انحصار، کاکتیہ دور میں تعمیر کردہ ان تالابوں پر ہے ۔ صدیوں سے ان ذخائر آب سے استفادہ کیا جارہا ہے۔ انہوںنے متعلقہ محکمہ کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ متوسط آبپاشی نظام کو از سرنو فروغ دینے اور تالابوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کے سلسلہ میں جامع رپورٹ تیار کی جانی چاہئے اور یہ کام ایک ہفتہ میں پورا کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے جمعہ کو پر گتی بھون میں مشن کاکتیہ اور متوسط آبپاشی نظام کے ذرائع کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ اس اجلاس میں چیف سکریٹری ایس کے جوشی، پرنسپل سکریٹری فینانس رام کرشنا راؤ، انجینئر ان چیف مرلیدھر، سی اے ڈی اے کمشنر، ملسور، چیف انجینئر چھوٹی آبپاشی شیام سندر اور دیگر عہدیدار شریک تھے ۔ انہوںنے کہا کہ ایک تالاب پانی سے بھرجاتا ہے تو اس کا فاضل پانی دوسرے تالاب میں جاملتا ہے یہ سلسلہ ایک عام بات ہے ۔ آبگیر علاقوں سے بہنے والے پانی سے بھی تالابوں کو بھرا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ 1974 میںبچاوت ایوارڈ نے دونوں دریاوں کے طاس علاقوں کا 265 ٹی ایم سی پانی تلنگانہ کے تالابوں کے لئے مختص کیاگیا تھا
تاہم ریاست کے تالابوں کو تباہ کردیا گیا جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کی عام زندگی بھی تباہ ہوگئی ۔انہوںنے کہا کہ ریاست کے تالابوں کی مرمت اور تزئین نو کیلئے مشن کاکتیہ پروگرام کو متعارف کرایا گیا ۔ بارش کا پانی، تالابوں تک پہونچانے کیلئے ممکنہ مساعی انجام دی جارہی ہے 12,150 چین پرمشتمل27,800 تالابوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ اگر پانی اس زنجیر(سلسلہ) کے پہلے تالاب میں آئے گا تو اس تالاب کے بھرنے کے بعد فاضل پانی دوسرے تالاب میں جاملے گا ۔ چند مقامات پر یہ طبعی نظام جاری ہے مگر بورویلز کی کندیدگی میں غیر معمولی اضافہ سے زیر زمین پانی کی سطح میں کمی آگئی ہے ۔ اگر تمام تالاب جب لبریز ہوجائیں گے تب زیر زمین سطح آب میں بھی اضافہ ہوگا۔

جواب چھوڑیں