وزیراعظم‘ مشاورتی اجلاس طلب کریں۔راج ناتھ سنگھ کی آل پارٹی میٹنگ میں اپوزیشن کا مطالبہ

اپوزیشن جماعتوں نے ہفتہ کے دن مطالبہ کیا کہ پلوامہ دہشت گرد حملہ پر تبادلہ خیال کے لئے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ میٹنگ کرائی جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے طلب کردہ کُل جماعتی اجلاس میں کیا۔ اجلاس کے بعد کانگریس قائد غلام نبی آزاد نے میڈیا نمائندوںسے کہا کہ ہم نے وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیراعظم سے کہیں کہ تمام قومی اور علاقائی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس طلب کریں۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے حکومت کی بھرپور تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے ہمارا اختلاف ہوسکتا ہے اور ہونا بھی چاہئے لیکن ہم نے ملک کی خاطر ‘ ملک کی حفاظت اور اتحاد کی خاطر ‘ ملک کے عوام اور سیکوریٹی فورسس کے تحفظ کی خاطر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم ‘ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے فوج ‘ بی ایس ایف‘ سی آر پی ایف اور جموں وکشمیر پولیس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک غمزدہ ہے ‘ برہم ہے ۔ عوام اور سیاستداں بلالحاظ مذہب و ملت غم منارہے ہیں۔ کشمیر ہو یا ملک کا کوئی بھی حصہ‘ عسکریت پسندی سے نمٹنے میں کانگریس ‘ حکومت کا بھرپور تعاون کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر جماعتوں نے بھی وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ کے مطالبہ کی تائید کی ہے۔ سی پی آئی قائد ڈی راجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور حکومت کے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لئے ایسا اجلاس طلب کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج سبھی جماعتوں نے حملہ کی مذمت کی اور کہا ہے کہ چیلنج سے پُر اس لمحہ میں وہ سیکوریٹی فورسس کے ساتھ ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ مسلم فرقہ کے خلاف کوئی اشتعال انگیزی نہ ہو۔ راشٹریہ جنتادل کے جئے پرکاش نارائن یادو ‘ ترنمول کانگریس کے سدیپ بندھوپادھیائے اور ڈیرک اوبرائن ‘ ریپبلکن پارٹی آف انڈیا کے صدر اور مرکزی وزیر رام داس اٹھاؤلے ‘ کانگریس کے آنند شرما اور تلگودیشم پارٹی کے رام موہن نائیڈو اجلاس میں موجود تھے۔ ہفتہ کے دن کُل جماعتی اجلاس میں 14 فروری کے پلوامہ حملہ کی مذمت میں قرارداد بھی منظور ہوئی۔ کشمیر میں عسکریت پسندی کا آغاز 1989میں ہوا تھا۔ جمعرات کے حملہ کو بدترین دہشت گرد حملہ کہا جارہا ہے۔ اس حملہ نے سیکوریٹی فورسس پر سکتہ طاری کردیا ہے کیونکہ حالت ِ امن میں ایک دن میں اتنی جانیں پہلے کبھی نہیں گئیں ۔ یو این آئی کے بموجب ہفتہ کے دن کُل جماعتی اجلاس نے پلوامہ حملہ کی مذمت کی اور کہا کہ ملک سیکوریٹی فورسس کے ساتھ اظہارِ یگانگت میں متحد ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ لائبریری بلڈنگ میں کی۔ وزیر پارلیمانی امور نریندرسنگھ تومر ‘ کانگریس قائدین غلام نبی آزاد ‘ جیوتر آدتیہ سندھیا اور آنند شرما‘ بی ایس پی کے ستیش چندر مشرا‘ سی پی آئی کے ڈی راجہ‘ نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ‘ شیوسینا کے سنجے راوت اور دیگر اپوزیشن قائدین نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ شہیدوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور پاکستان کے خلاف حکومت لڑائی کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ پاکستان کے خلاف ہندوستان فیصلہ کن لڑائی لڑرہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اظہار تشکر کیا۔ پی ٹی آئی کے بموجب سیاسی جماعتوںنے ہفتہ کے دن اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ سبھی سیاسی جماعتوں بشمول بی جے پی و کانگریس کے اجلاس میں دہشت گرد حملہ کی مذمت میں قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا لیکن زور دے کر کہا گیا کہ ہندوستان کو سرحد پار دہشت گردی کی برائی کا سامنا ہے۔ آج کے اجلاس میں سیاسی جماعتوں کو پلوامہ حملہ اور حکومت کے تاحال کئے گئے اقدامات کی جانکاری دی گئی۔ اکالی دل کے نریش گجر اور آر ایل ایس پی کے اوپیندر کشواہا بھی اجلاس میں موجود تھے۔ یو این آئی کے بموجب ڈائرکٹرجنرل سی آر پی ایف نے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو 14 فروری کے واقعہ کی جانکاری دی۔ کُل جماعتی اجلاس سے قبل راج ناتھ سنگھ نے صبح مرکزی معتمد داخلہ اور انٹلیجنس ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ اپنے بنگلہ پر میٹنگ کی۔

جواب چھوڑیں