ریاست بھر میں ضابطہ اخلاق سختی کے سا تھ لاگو ‘سی ای او رجت کمار کا دعویٰ

چیف الیکٹورل آفیسر تلنگانہ ڈاکٹر رجت کمار نے آج کہا کہ متنازغہ فلم ’’ لکشمی ۔ این ٹی آر‘‘ کے خلاف اس وقت تک کاروائی نہیں کی جائے گی تاوقتیکہ اس فلم کی نمائش اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایت کا جائزہ نہ لیا جائے ۔ فلم کی ریلیز کے بعد ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں ہی اس متنازعہ فلم کے خلاف کاروائی کی جائے گی ۔ لکشمی ۔ این ٹی آر فلم کے خلاف پیش کردہ شکایت پر رجت کمار ردعمل کا اظہار کررہے تھے۔ اس شکایت پر کہ اس فلم سے ایک سیاسی جماعت کے امکانات متاثر ہوں گے تو رجت کمار نے واضح طور پر کہا کہ جب تک الیکشن کمیشن اس فلم کو نہیں دیکھ لیتا تب تک اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ یہ بتانے پر کہ اس فلم کا متن، ایک جماعت کے خلاف ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر اس فلم کے متن سے کسی جماعت کے حق میں ووٹ مانگنے میں مدد مل رہی ہے تو ایسی صورت میں رائے دہندوں کو لبھانے کے تحت کار وائی کی جائے گی اور اس کو پیڈ نیوز تصور کرتے ہوئے امیدوار سے اس کا مکمل خرچ وصول کیا جائے گا ۔عین انتخابات سے قبل یہ فلم نمائش کیلئے جاری کی جانے والی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ صرف الیکشن کمیشن ہی اس سلسلہ میں کاروائی کرسکتا ہے ۔ سکریٹریٹ میں جمعرات کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سی ای او رجت کمار نے کہا کہ ریاست بھر میں ضابطہ اخلاق کو سختی کے ساتھ لاگو کیا جارہا ہے ۔ اب تک4.50لاکھ کے قریب بیانرس، پوسٹرس، اور فلکسیز کو ہٹایا جاچکا ہے ۔ صرف ایک دن میں90لاکھ روپے ضبط کئے گئے مزید رقم کو ضبط کرنے کی اطلاعات آرہی ہیں۔ تمام سرکاری محکموں کو ضابطہ اخلاق کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کی ہدایت دی جاچکی ہے۔ اگرکوئی اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف چند منٹوں میں سخت کاروائی کی جائے گی ۔ انہوںنے کہا کہ ریاست بھر میں موثر طریقہ سے ضابطہ اخلاق کونا فذ کرنے کیلئے432 فلائنگ اسکواڈس ،188 ویڈیو‘489 مثالی ضابطہ اخلاق اور89اکاونٹنگس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ جب تک الیکشن کمیشن مطمئن نہیں ہوتا تب تک ایک بھی کیس کو بند نہیں کیا جائے گا ۔ گذشتہ سال منعقدہ اسمبلی انتخابات کے دوران حلقہ کوڑنگل سے بھاری رقومات کی ضبطی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق17.5 کروڑ روپے ضبط کئے گئے جبکہ محکمہ انکم ٹیکس نے اپنی رپورٹ میں51 لاکھ روپے ضبط کرنے کی بات کہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پولیس اور انکم ٹیکس دونوں کی رپورٹوں پر تحقیقات کی ضرورت ہے ۔

جواب چھوڑیں