نہرو نے ہندوستان کو سلامتی کونسل سے باہر نہیں رکھا: کانگریس ترجمان پرینکا چترویدی

بی جے پی کے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے 1940 کی دہائی میں ہندوستان کی قیمت پر چین کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی نشست تحفتاً پیش کردی تھی‘ کانگریس نے آج زور دے کر کہا کہ نہرو نے ملک کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے باہر نہیں رکھا۔ کانگریس ترجمان پرینکا چترویدی نے سلسلہ وار ٹویٹر پیامات میں کہا کہ ہر شخص جانتا ہے کہ بی جے پی عظیم جھوٹوں کی جماعت ہے۔ روی شنکر پرساد نے آج ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے۔ نہرو نے ہندوستان کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے باہر نہیں رکھا یا کینیڈی کی پیشکش کو مسترد نہیں کیا تھا۔ یہ صرف بیان بازی ہے۔ انہوں نے ایک اور ٹویٹر پیام میں کہا کہ بی جے پی کی جھوٹ گھڑنے کی فیکٹری نے ایک بار پھر آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو جی کے خلاف نفرت کی مہم شروع کردی ہے۔ حقاق حسب ِ ذیل ہیں: اقوام متحدہ 1945 میں قائم ہوا ۔ اُس وقت ہندوستان آزاد نہیں تھا ۔ 1945 سے لے کر اب تک اقوام متحدہ کی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے اس الزام پر یہ جواب دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پنڈت نہرو کی وجہ سے آج چین‘ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا رکن بنا ہوا ہے۔ قبل ازیں موصولہ اطلاع کے مطابق پاکستان کی دہشت گردتنظیم جیش محمد کے سرغنہ کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کے لئے امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی مضبوط حمایت کے باوجود چین کے ویٹو سے ناراض بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) نے اس معاملہ پر کانگریس کے صدر راہول گاندھی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہاکہ پنڈت جواہر لال نہرو نے ہی چین کو طاقتور اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں بطور ’ تحفہ‘ جگہ دلائی تھی۔بی جے پی کے ٹوئٹر ہینڈل سے راہول گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ چین اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا رکن نہیں ہوتا اگر آپ کے عظیم نانا ( نہرو) نے ہندوستان کی قیمت پر اسے تحفہ کے طورپر چین کو نہیں سونپا ہوتا۔ ہندوستان نے آپ کے خاندان کی تمام غلطیوں کو معاف کیا۔ یہ یقینی بنائیں کہ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی جیت سکے۔مسعود کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کی کوششوں کے ناکام ہونے کے بعدراہول گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر تلخ تبصرہ کیا تھا جس کے فوراََ بعد بی جے پی کی طرف سے یہ بیان آیا ہے۔بی جے پی نے پرانے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بھی گاندھی کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ 2017میں ڈوکلم تنازعہ کے عروج پر پہنچنے کے دوران چینی حکام کے ساتھ خفیہ میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے گاندھی کو مودی کو کسی طرح کی نصیحت نہیں دینے کا مشورہ دیا ہے۔مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گردقرار دیئے جانے سے متعلق اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں لائی گئی قرارداد ایک بار پھر چین کی طرف سے اعتراض کرنے کے بعد منظور نہیں ہوسکی۔ اقوام متحدہ کے مستقل رکن ممالک امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے مسعود کو عالمی دہشت گرد قرار دینے تجویزر کھی تھی۔ مستقل اراکین میں شامل چین نے قرارداد پر اعتراض کیا جس سے یہ منظور نہیں ہوسکی۔بی جے پی کی طرف سے چین کو سلامتی کونسل کی رکنیت ’تحفہ‘ کے طورپر دلانے میں نہرو کے کردار پر تاریخی پس منظر کے تحت سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ 1950میں جب امریکہ نے چین کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا تب نہرو نے بیجنگ کی حمایت کرتے ہوئے اس کے سلامتی کونسل کا رکن بننے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے حق میں اور خلاف کئی اسباب بتائے جاتے ہیں۔اس سے قبل گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی چین کے صدر جنپنگ کے سامنے ’کمزور‘ پڑ جاتے ہیں۔وزارت خارجہ کی طر ف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم اس قدم سے مایوس ہیں۔ اس کی وجہ سے 14فروری کو جموں وکشمیر میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والی دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار نہیں دیا جاسکا۔

وزارت خارجہ نے کہاکہ ہم رکن ممالک کی طر ف سے کی گئی کوششوں کے شکرگزار ہیںجنہوں نے مسعود اظہر کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ ہم یہ یقینی بنانے کے لئے ہر ر استہ اختیار کریں گے کہ دہشت گردوں کا سرغنہ ،جو وحشیانہ حملوں میں شامل ہے ،اسے انصاف کے دائرے میں لایا جائے۔

جواب چھوڑیں