پرمود ساونت‘ گوا کے نئے چیف منسٹر ہوں گے

بی جے پی لیڈر پرمود ساونت‘ گوا کے نئے چیف منسٹر ہوں گے۔ پارٹی ذرائع نے آج یہ بات بتائی۔ اِس طرح منوہر پاریکر کے جانشین کے بارے میں تجسس ختم ہوگیا۔ 63سالہ پاریکر کا ‘ لبلبہ کے کینسر کے سبب کل انتقال ہوگیا اور آج شام سرکاری اعزازات کے ساتھ اُن کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ پرمود ساونت گوا قانون ساز اسمبلی کے موجودہ اسپیکر ہیں۔ اقتدار کی تقسیم پر حلیف جماعتوں کے ساتھ سمجھوتہ کے نتیجہ میں گوا فارورڈ پارٹی ( جی ایف پی) کے صدر وجئے سردیسائی اور مہاراشٹرا وادی گومنتک پارٹی ( ایم جی پی) کے رکن اسمبلی ایس دھاوالیکر ‘ ڈپٹی چیف منسٹر ہوں گے۔ ہونے والے دو ڈپٹی چیف منسٹرس‘ دوچھوٹی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ جماعتیں ساحلی ریاست گوا میں بی جے پی کی حمایت کررہی ہیں۔حلیف جماعتوں کے ساتھ متعدد میٹنگس کے بعد بی جے پی نے تعطل کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی اور ڈپٹی منسٹرس کے عہدوں کیلئے حلیف جماعتوں کے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے اُن کا حصہ دے دیا جب منوہر پاریکر چیف منسٹر تھے تب ایسا کوئی انتظام( ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدوں کا انتظام) نہیں تھا۔ بی جے پی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایاکہ ’’ ہم نے اتحاد کے شرکاء کو قائل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور اِس ریاست کیلئے دو ڈپٹی چیف منسٹرس کے فارمولہ کو قطعیت دے دی ہے‘‘۔ قبل ازیں مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہاتھا کہ گوا کے آئندہ چیف منسٹر کے بارے میں حلیف جماعتوں کے ساتھ کوئی اتفاق رائے نہیں ہوپارہا تھا۔ بی جے پی نے چیف منسٹر کے امیدوار کے تعلق سے تعین کرلیا ہے لیکن حلیفوں کو بھی ساتھ لینا ہے۔ پاریکر کے جانشین کے مسئلہ پر اتفاق رائے پر پہنچنے کیلئے کل رات دیر گئے سے متعدد میٹنگس منعقد ہوئیں ۔جی ایف پی اور ایم جی پی کے ا رکان اسمبلی کی تعداد تین تین ہے ۔ آزاد ارکان اسمبلی کی تعداد بھی تین ہے۔ اِن ارکان نے بھی کل سے جاری اجلاسوں میں شرکت کی۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری آج صبح نئی دہلی سے ذریعہ طیارہ یہاں پہنچے تاکہ مذاکرات کی رہنمائی کریں۔ یہاں یہ بات بتلادی جائے کہ منوہرپاریکر‘ ایک مخلوط حکومت کی قیادت کررہے تھے جو بی جے پی ایم ایل ایز کے علاوہ جی ایف پی کے تین ‘ ایم جی پی کے تین اور تین آزاد ارکان اسمبلی پر مشتمل تھی۔ بحالت موجودہ گوا میں کانگریس واحد سب سے بڑی پارٹی ہے جس کے ارکان کی تعداد 14 ہے۔ 40رکنی ریاست اسمبلی میں بی جے پی ارکان کی تعداد 12ہے۔ پاریکر کے انتقال کے بعد ارکان اسمبلی کی تعداد 36 ہوگئی ہے۔ جاریہ سال کے اوائل میں بی جے پی رکن اسمبلی فرانسس ڈسوزاکے انتقال اور کل پاریکر کے انتقال ونیز سالِ گذشتہ 2کانگریسی ارکان اسمبلی کے استعفیٰ کے سبب اسمبلی ارکان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ کانگریس کے مستعفی اسمبلی کے نام یہ ہیں سبھاش شیروڈ کر اور دیا نند ساپٹے۔اسی دوران کانگریس ارکانِ اسمبلی نے آج گورنر مردولا سنہا سے ملاقات کی اور اس ساحلی ریاست میں تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کیا۔ قائد ِ اپوزیشن چندر کاؤلیکر کی زیرقیادت تمام 14 کانگریس ارکانِ اسمبلی راج بھون پہنچے اور مردولا سنہا کو ایک مکتوب حوالے کیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ کانگریس اسمبلی میں واحد بڑی جماعت ہے اور اسے تشکیل حکومت کی اجازت دی جانی چاہیے ۔ کاؤلیکر نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ چیف منسٹر کے انتقال پر ہمیں دکھ ہے ، لیکن ان کی آخری رسومات انجام دینے سے قبل ایک نئی حکومت تشکیل دی جانی چاہیے ۔ گورنر نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کانگریس واحد بڑی جماعت ہے ۔

جواب چھوڑیں