کے سی آر‘وزارت عظمی امیدوار کومنتخب کریں گے:کے ٹی آر کادعویٰ

ٹی آرایس کے کارگذار صدرکے تارک رامارائو نے جمعرات کوپیش قیاسی کی کہ مرکزمیں تشکیل حکومت کے لئے بی جے پی کواکثریت نہیں ملے گی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں دن بہ دن کمی آتی جارہی ہے ۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کابھی مظاہرہ حوصلہ افزا نہیں رہے گا۔ 2014 میں عوام نے بی جے پی کو اقتدار حوالے کیا مگر وزیر اعظم نریندر مودی ‘عوام کے مسائل حل کرنے میںناکام رہے ۔ مودی کی غلط وناقص پالیسیوں سے ملک کے عوام کو مصائب ومشکلات میں ڈالدیاگیا ۔ عادل آباد کے کانگریس قائد انیل جادھو کی اپنے حامیوں کے ساتھ ٹی آرایس میں شمولیت کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کے ٹی آر نے یہ بات کہی۔ تلنگانہ بھون میں کے ٹی آر نے کہاکہ نریندر مودی ‘عوام کے اعتماد سے محروم ہوگئے جبکہ کانگریس سے بھی عوام خوش نہیںہیں۔ ان حالات میں ٹی آرایس کے اگر 16امیدوار کامیاب ہوجاتے ہیں تو پارٹی سربراہ کے سی آر کوبادشاہ گر کاموقف حاصل ہوجائے گااور کے چندرشیکھررائو‘وزارت عظمی کے امیدوار کے انتخاب کے موقف میں رہیں گے۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ نیتی آیوگ کی سفارش کے باوجود نریندر مودی کی حکومت نے تلنگانہ میں ترقیاتی کاموں کی تکمیل کیلئے فنڈس جاری نہیں کئے ۔انہوں نے کہاکہ مختلف سروے کرائے گئے ہیں ہرسروے رپورٹ میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ بی جے پی کو 150سے زائد نشستیں حاصل نہیں ہوںگی جبکہ اس کی حریف کانگریس کو 100کے قریب نشستیں مل سکتی ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں کسی بھی صورت میں مرکز میں حکومت تشکیل دینے کے موقف میں نہیں رہیں گی۔ انہوںنے ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کی ترقی کیلئے پارٹی کے 16امیدواروں کوکامیابی سے ہمکنار کرائیں ۔انہوں نے کہا کہ جب ہمارے 2ارکان پارلیمنٹ تھے تب ٹی آرایس نے علحدہ تلنگانہ کے قیام کویقینی بنایا اگر پارٹی کے 16ارکان پارلیمنٹ رہیں گے تو کے چندر شیکھر رائو ‘وزارت عظمی کے امیدوار کو منتخب کرنے کے موقف میں آجائیںگے ۔اس موقع پر پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد موجودتھی۔

جواب چھوڑیں