کے سی آر پر دستوری و جمہوری اداروں کو تباہ کرنے کا الزام

تلنگانہ کانگریس کمیٹی کے ایک وفد نے سابق مرکزی وزیر قانون ویرپا موئیلی کی قیادت میں آج شام راج بھون پہنچ کر گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ پر دستور اور دستوری وجمہوری اداروں کو تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کو برطرف کرنے اور ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ۔ وفد نے کانگریس کے نو منتخب9 ارکان اسمبلی پی سبیتا اندرا ریڈی، ڈی سدھیر ریڈی، وی وینکٹیشور راؤ، چیرومتی لنگیا‘ بی ہرش وردھن ریڈی ، بی ہری پریا نائک، کے اوپیندر ریڈی ، آتھارام سکواور آر کانتا راؤ کو دستور کی دفعہ192 کے تحت اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا ۔ وفد میں ویر پا موئیلی کے علاوہ قائد سی ایل پی بھٹی وکرامارکہ، این اتم کمار ریڈی صدرٹی پی سی سی ،آر سی کنتیا انچارج کانگریس امور، اے آئی سکریٹریز، این بوس راجو، سرینواس، سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر و دیگر قائدین شامل تھے ۔گورنر کو پیش کردہ یادداشت میں بتایا گیا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو دستوری عہدہ پر فائز رہتے ہوئے کانگریس کے ارکان اسمبلی کو اپنی سرکاری قیامگاہ طلب کرتے ہوئے انہیں ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی نہ صرف ترغیب دے رہے ہیں بلکہ انحراف کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ اس کیلئے انہیں لالچ کا پیشکش کیا جارہا ہے ۔ یہاں تک کہ بعض ارکان کو جو اپنی حقیقی پارٹی کے نشان پر منتخب ہوئے تھے، بعدازاں وہ منحرف ہوکر حکمراں پارٹی میں شامل ہوگئے ۔ انہیں نہ صرف وزارت میں شامل کیا گیا بلکہ مختلف اہم عہدوں سے نوازا گیا ۔ یادداشت میںدستور ہند کے 10 ویں شیڈول کا حوالہ دیا گیا جس میں بتایا گیا کہ کوئی بھی رکن اسمبلی اپنی حقیقی پارٹی کے نشان پر منتخب ہونے کے بعد دوسری پارٹی میں شامل نہیں ہوسکتا ۔یادداشت میں تلنگانہ تلگو دیشم کے ایک رکن ٹی سرینواس یادو کا حوالہ دیا گیا جنہیں حکمراں ٹی آر ایس نے اپنی وزارت میں شامل کیا ۔ وفد نے اپنے مکتوب میں دستور کی مختلف دفعات اور سپریم کورٹ کے احکام بالخصوص ایس آر بومائی کیس کا حوالے دیتے ہوئے گورنر سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اپنی دستوری ذمہ داری کو پوری کریں اور اس یادداشت کی ایک کاپی صدر جمہوریہ اور وزارت داخلہ کو روانہ کریں۔تاکہ دستور ہند کی دفعہ356 کا استعمال کرتے ہوئے ریاست میں صدر راج نافذ کرسکے ۔

جواب چھوڑیں