ٹرمپ کی اسرائیل نواز پالیسیوں کی متحدہ طورپر مذمت

تیونس میں آج عرب لیگ کی 30ویں سالانہ چوٹی کانفرنس کا افتتاح عمل میں آیا۔ عرب قائدین نے امریکہ کے ٹرمپ نظم ونسق کی پالیسیوں کی‘ متحدہ طورپر مذمت کی ہے اور کہاکہ یہ پالیسیاں نامناسب طورپر اسرائیل کی طرف جھکاؤ کی حامل ہے۔ تاہم متعدد مسائل پر اِن قائدین کی رائے منقسم رہی۔ مذکورہ مسائل میں یہ مسئلہ بھی شامل ہے کہ آیا بانی رکن شام کو دوبارہ شامل کیا جائے۔ سال حال یہ چوٹی کانفرنس‘ شام اور یمن میں جاری جنگوں کے پس منظر میں ہورہی ہے۔ لیبیا میں حریف حکام کی سرگرمی جاری ہے اور عرب لیگ کے 4ساتھی ارکان نے قطر کا ‘ ایک عرصہ سے بائیکاٹ جاری رکھا ہے۔ صدر الجیریا عبدالعزیز بوطفیلکا اور صدر سوڈان عمر البشیر نے آج کی کانفرنس میں شرکت نہیں کی اور استدلال پیش کیا کہ اُن کی حکومتوں کیخلاف عوامی احتجاج جاری ہے۔ شام کو چھوڑ کر 22رکنی عرب لیگ نمائندوں کا مقصد ‘ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے اُس اقدام کی مشترکہ طورپر مذمت کرنا ہے جو گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے کنٹرول کو تسلیم کرنے سے متعلق ہے۔اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں گولان پہاڑیو ں کو شام سے چھین لیا تھا اور ٹرمپ نے سال گذشتہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ آج یہاں عرب لیگ چوٹی کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر سعودی عرب کے شاہ سلمان نے کہاکہ اُن کا ملک ’’ گولان کی پہاڑیوں پر شام کے اقتدار اعلیٰ کی بیخ کنی کرنے والے کسی بھی اقدام کو قطعی طورپر مسترد کرتا ہے‘‘ اور مغربی کنارہ ونیز غزہ پٹی میں مملکتی فلسطین کے قیام کی تائید کرتا ہے۔ مشرقی یروشلم‘ اِس مملکت کا دارالحکومت ہو ۔ اُنہوںنے کہاکہ اِس علاقہ میں عدم استحکام ‘ ایران کے اقدامات سے پیدا ہورہا ہے۔ گذشتہ 50برسوں میں عرب لیگ کو جن چند امور نے متحد کیا ہے اُن میں سے ایک‘ گولان پہاڑیوں پر‘ مشرقی یروشلم پر اور مغربی کنارہ پر اسرائیل کے قبضہ کا استرداد ہے۔ تیونس میں ملاقات کرنے والے عرب قائدین‘ توقع ہے کہ ایک بیان جاری کریں گے ۔ امریکی اقدامات کی مذمت کی جائے گی لیکن کسی مزید کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ اِس کی ایک وجہ یہ ہے کہ علاقائی طاقتیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ‘ ٹرمپ نظم ونسق کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور اپنے اصل حریف ایران کیخلاف امریکہ کو ایک اہم حلیف گردانتے ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں کے ساتھ تین سال سے جاری تباہ کن جنگ پر دونوں ہی ممالک کو مغربی دباؤ کا سامنا ہے۔ ریاض‘ واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خشوگی کی ہلاکت کے مابعد اثرات سے ہنوز نبردآزما ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ سعودی ایجنٹوں نے جمال خشوگی کو سال گذشتہ استنبول میں ہلاک کیا تھا۔ تاخیر سے موصولہ اطلاع کے بموجب عرب لیگ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے کنٹرول کو تسلیم کرنے کے‘ ا مریکی اقدام کو مسترد کردیا ہے۔ عرب قائدین نے عرب امن پہل( 2002) کی بنیاد پر تصادم کا تصفیہ کرنے کے اپنے عہد کا اعادہ کیا۔ گولان کی پہاڑیوں سے‘ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارہ سے ونیز 1967 کی جنگ میں قبضہ کردہ اراضیات سے اسرائیل کے مکمل انخلاء کے عوض عرب ممالک‘ مذکورہ امن پہل کے تحت اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔

جواب چھوڑیں