اپوزیشن جماعتیں‘ سپریم کورٹ سے پھر رجوع ہوں گی ۔الکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر شبہات

الکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایمس) کی ساکھ پر شبہات ظاہر کرتے ہوئے کئی اپوزیشن جماعتوں نے اتوار کے دن کہا کہ وہ سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع ہوں گی کہ کم ازکم 50 فیصد پیپر ٹریل کی گنتی کی جائے۔ اپوزیشن جماعتوں بشمول کانگریس‘ تلگودیشم ‘ سماج وادی پارٹی‘ سی پی آئی اور سی پی آئی ایم نے مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی۔ چیف منسٹر دہلی اور عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ اس نے لوک سبھا الیکشن جیتنے الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی پروگرامنگ کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور انتخابی عمل پر سے عوام کا بھروسہ اٹھتا جارہا ہے۔ کپل سبل نے الیکشن کمیشن کی نیت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کیوں نہیں چاہتا ہے کہ 50 فیصد ووی پیاٹ سلپس کی گنتی ہو۔ آج 20-25 فیصد الکٹرانک ووٹنگ مشینیں ٹھیک سے کام نہیں کررہی ہیں۔4 بجے تک لوگ ووٹ ڈال رہے ہیں اورانہیں قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ چندرابابو نائیڈو نے کہا کہ الکٹرانک ووٹنگ مشینیں بھروسہ کے لائق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ میں سادہ درخواست داخل ہوگی۔ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) میں خرابی کے مسئلہ پر اپوزیشن جماعتوں نے اتوار کے دن اجلاس منعقد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گی کہ کم ازکم 50 فیصد پیپر ٹریل کو ای وی ایمس کے ساتھ ملاکر گِنا جائے۔ چیف منسٹر آندھراپردیش این چندرابابو نائیڈو نے جنہوںنے ہفتہ کے دن چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ سے الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کے مسئلہ پر ملاقات کی ‘ کہا کہ 21 سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ 50 فیصد وی وی پیاٹ سلپس کی گنتی کی جائے۔ کانگریس قائد ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گی کہ وہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دے کہ ہر اسمبلی حلقہ میں کم ازکم 50 فیصد وی وی پیاٹ سلپس کو الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ ملاکر گنا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ‘ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کے مسئلہ پر ملک گیر مہم چلائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں الیکشن کمیشن اس سلسلہ میں زیادہ کچھ نہیں کررہا ہے۔ سپریم کورٹ نے پیر کے دن الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ ہر اسمبلی حلقہ میں ایک کے بجائے 5 پولنگ بوتھس میں وی وی پیاٹ سلپس کو گِنا جائے۔

جواب چھوڑیں