حلقہ پارلیمنٹ نظام آباد پر سارے ملک کی توجہ

حلقہ پارلیمنٹ نظام آباد سارے ملک کی توجہ حاصل کئے ہوئے ہے۔ بڑی تعداد میں امیدواروں کی انتخابی میدان میں قسمت آزمائی اور رائے دہی کیلئے12 بیالٹ یونٹس کے استعمال سے یہاں کہیں زیادہ توجہ دی جارہی ہے ۔ 11؍ اپریل کو منعقد ہوئے انتخابات کے نتائج کیلئے23 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہونے والی ہے ۔ تاہم کونسل انتخابات کی طرح نظام آباد پارلیمنٹ کے نتائج کیلئے کم از کم دو دن درکار ہونے کا امکان ہے ۔ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان کیلئے30 گھنٹے ہوسکتے ہیں۔ نظام آباد پارلیمنٹ حلقہ کیلئے جملہ185 امیدوار میدان میں ہے اور نوٹا کو ملا کر یہ تعداد186 ہوجاتی ہے ۔ حلقہ میں جملہ1788 پولنگ مراکز پر رائے دہی ہوئی تھی ۔ ان ووٹوں کی گنتی کیلئے دو مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ حلقہ اسمبلی جگتیال اور کورٹلہ کیلئے جگتیال اور نظام آباد ضلع کے پانچ اسمبلی حلقہ جات بالکونڈا، آر مور، بودھن، نظام آباد اربن اور نظام آباد رورل کے لئے ڈچپلی میں واقع کرسچین میڈیکل کالج میں گنتی کا کام انجام دیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضرور ہے کہ اسمبلی انتخابات میں ہر اسمبلی حلقہ میں گنتی کا نظم کیا جاتا ہے ۔ مگر پارلیمنٹ انتخابات کیلئے صرف ضلع مستقر پر ہی گنتی کا کام کیا جاتا ہے ۔ چونکہ حلقہ پارلیمنٹ نظام آباد ، نظام آباد اور جگتیال کا احاطہ کرتا ہے ۔ دو جگہ ووٹوں کی گنتی کے مراکز قائم کئے گئے ۔ اس کے علاوہ امیدواروں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے ہر راونڈ میں18 ٹیبل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ حلقہ میں رائے دہی کے موقع پر بھی خاطر خواہ انتظامات کرنا پڑا اور سمجھا جاتا ہے کہ رائے شماری کے موقع پر بھی خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں