سوڈان میں عمر البشیرانتظامیہ کا صفایا کر دیا جائے گا

افریقی ملک سوڈان کی ملٹری کونسل کے نئے سربراہ جنرل عبدالفتح برہان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سارے ملک میں سے عمر البشیر حکومت کی تمام باقیات کا پوری صفایا کر دیا جائے گا۔ انہوں نے حکومتی ڈھانچے کی تشکیل نو کا اعلان کرتے ہوئے بدعنوانی کو ختم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ جنرل برہان نے عمر البشیر کی حکومت کو ہٹانے کے بعد قائم ہونے والی ملٹری کونسل کے سربراہ جنرل عود ابن عوف کو فارغ کر دیا ہے۔ عود ابن عوف معزول صدر عمر البشیر کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ نئے فوجی سربراہ نے ملکی خفیہ ادارے کے سربراہ صلاح عبداللہ محمد صالح کو بھی ہٹا دیا ہے۔سوڈان کی فوجی عبوری کونسل نے سابق حکومت کے دور میں شہری آزادیوںپرعاید کی گئی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔سوڈان کی عبوری کونسل کا ہفتیکے روز اہم اجلاس خرطوم میں ہوا۔ اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے مندوبین نے بھی شرکت کی۔ کونسل کے رکن عمر الدقیران نے ایک بیان میں بتایا عبوری کونسل کے چیئرمین نے شہری آزادیوں?پرعاید کی گئی پابندیاں فوری ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں?نے کہا کہ ہم نے عسکری کونسل سے سیکیورڈی سسٹم کی ازسرنو تشکیل، مکمل شہری اصلاحات کینفاذ، کونسل میں سیاسی جماعتوں کو شامل کرنے کے مطالبات پیش کیے ہیں۔آج اس حوالے سے کونسل کے سامنے مطالبات کی مکمل فہرست پیش کی جائے گی۔الدقیر کاکہنا تھا کہ ہمیں ملٹریکونسل کے چیئرمین کی طرف سے کیے گئے وعدوںپرعمل درآمد کا انتظار ہے۔ انہوں?نے تمام قیدیوں کو رہاکرنے کا وعدہ کیا ہے۔ امید ہے کونسل جلد از جلد سیاسی قیدیوںکو رہاکرے گی۔ انہوں?نے کہاکہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ فوجی عبوری کونسل شہریوں کیقتل عام میں ملوث عناصرکو قانون کے کٹہرے میں لانے کے ساتھ کرپشن کا خاتمہ کرے گی۔الدقیر کاکہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے انہیں بتایا کہ خرطوم میں دھرنا دینے والے شہریوں?نے جنرل عوض بن عوف کو عبوری کونسل کے چیئرمین سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔دریں اثناء معزول صدر کے خلاف احتجاجی تحریک کو منظم کرنے والے منتظمین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں سول حکومت کے قیام تک اپنا مارچ جاری رکھیں۔عینی شاہدین کے مطابق آج دارالحکومت خرطوم میں وزارت دفاع کے باہر ہزاروں افراد نے جمع ہو کر احتجاج کیا ہے۔جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بھی ہزاروں افراد نے خرطوم میں عوض بن عوف کے مستعفی ہونے کی خوشی میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوڈان میں حکومت میں تبدیلی کے لیے فوج پر مظاہرین کا سخت دباؤ تھا۔ مسلح افواج میں پھوٹ کا خوف بھی پایا جارہا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا جارہا تھاکہ بعض فوجی کمانڈر بغاوت کرسکتے ہیں۔اے ایف پی کے بموجب سوڈان کے نئے فوجی سربراہ نے خرطوم میں واشنگٹن کے سرکردہ سفارتکار کو آج سابق صدر عمر البشیر کی فوج کی جانب سے بیدخلی کے بعد ملک کی سیکیورٹی صورتحال سے انہیں واقف کروایا ۔ اسٹیون کاٹ سیز نے فوجی کونسل کے نائب محمد حمدان ڈاگلو سے ملاقات کی جنہیں عام طور پر خرطوم کے صدارتی محل میں ہیمید کہاجاتاہے ۔سوڈانی نائب کوٹ سیز کو ملک کی موجودہ صورتحال اور فوجی کونسل کے قیام کی وجوہات سے واقف کروایا ۔ سرکاری خبر رساں ادارہ سونا ایجنسی کی رپورٹ کو سرکاری ٹیلی ویژن نشر کار فوٹیج کے ذریعہ ا ن کی میٹنگ کو پیش کیاگیا ۔ سونا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ہمیدی نے سفارتکار کو ملک کی سیکیورٹی استحکام کے تحفظ کے لیے فوجی کونسل کی جانب سے لائے گئے اقدامات سے واقف کروایا ۔ سوڈان کی فوجی کونسل جس کی قیادت جنرل عبدالفتح البرہان کررہے ہیں اس نے فوج کی جانب سے جمعرات کو بشیر کی معزولی کے بعد اقتدار حاصل کرلیا ۔ ہمیدی سوڈان کے متنازعہ انسداد شور ش یونٹ کے سربراہ ہیں جو ریاپیڈ سپورٹ فورس کہلاتی ہے ۔جس پر حقوق انسانی گروپس نے جنگ زدہ علاقہ دار فور میں بدسلوکیوں کاالزام کاالزام عائد کیا ۔ دار فور میں 2003میں وحشیانہ لڑائی کے آغاز کے بعد سے 3لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ اس وقت نسلی گروپس نے عرب کے زیر غلبہ بشیر حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھالئے تھے ۔

جواب چھوڑیں