دہشت گرد سرگرمیوں کی تحقیقات ، خصوصی سل قائم کیا جائے: دتاتریہ

بی جے پی کے سینئر قائد بنڈا رودتاتریہ نے اتوار کو ٹی آر ایس حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مشتبہ دہشت گرد سرگرمیوں کی تحقیقات کیلئے خصوصی سل قائم کرے ۔ انہوںنے کہا کہ2016 کے آئی ایس ماڈیول کیس کے تحت این آئی اے نے کل شہر کے تین مقامات پر تلاشی لی تھی ۔ این آئی اے کی تلاشی کے بعد شہر میں مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ کی تحقیقات کیلئے حکومت کو خصوصی سل قائم کرنا چاہئے ۔ سابق مرکزی وزیر ورکن پارلیمان سکندرآباد بنڈارو دتاتریہ نے الزام عائد کیا کہ این آئی اے کی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ شہر حیدرآباد ، بنیاد پرست اسلامک دہشت گروں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ۔ حالیہ تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ شہر میں اسلامک دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہاں سے بڑی تعداد میں نوجوانوں کی بھرتی کی جارہی ہے ۔ یہاں آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دتاتریہ نے یہ بات کہی ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی سرگرمیوں کی تحقیقات کے لئے ڈائرکٹر جنرل یا انسپکٹر جنرل پولیس عہدیدار کی زیر قیادت ایک خصوصی سل قائم کیا جائے ۔ انہوںنے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ حیدرآباد کے اطراف و اکناف کے علاوہ اضلاع نلگنڈہ ، نظام آباد، عادل آباد اور کریم نگر میں مشتبہ سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھے کیونکہ ان اضلاع میں بھی مشتبہ سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ بی جے پی قائد نے ریاستی حکومت سے ادارہ جات مقامی کے الیکشن کو موخر کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت نے پنچایت راج انتخابات میں بی سی تحفظات میں کمی کی تھی ۔ ا س طرح حکومت نے پسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔ یو این آئی کے بموجب سابق مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ نے الزام عائد کیا کہ حیدرآباد، دہشت گردوں کیلئے محفوظ مقام بن گیا ہے ۔ بی جے پی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو گلوبل سٹی بنایا جارہا ہے مگر اب یہ شہر دہشت گرد سرگرمیوں کا ہب بن گیا ہے ۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی تحریک پر یہاں ( حیدرآباد) سے دہشت گردسرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں جس کا ثبوت این آئی اے کی تحقیقات سے ملا ہے ۔ این آئی اے نے ابو دبئی کیس کے سلسلہ میں ہفتہ کے روز شہر کے تین مختلف مقامات پر دھاوے بھی کئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ریاست میں غیر موسمی بارش سے فصلوں بالخصوص دھان کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ دتاتریہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بارش میں بھیگے دھان کو خرید نے کیلئے ضروری اقدامات کرے ۔ انہوںنے کہا کہ ریاست کے سینکڑوں مواضعات کے عوام کو آبی بحران کا سامنا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ آبی بحران سے نمٹنے کیلئے مناسب اقدامات کرے ۔نمائندہ منصف کے بموجب بنڈارودتاتریہ نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ موسم گرما میں دونوں شہروں اور نواحی علاقوں میں آبی بحران سے نمٹنے کیلئے فوری اثر کے ساتھ500 کروڑ روپے جاری کرے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے گذشتہ 5برسوں کے دوران ریاست میں آبی ذرائع و وسائل میں اضافہ کیلئے ایک بھی کام نہیں کیا حتیٰ کہ حکومت نے دریائے کرشنا اور گوداوری سے حیدرآباد کو پانی لانے کیلئے نئی پائپ لائین بھی نصب نہیں کی ۔ گذشتہ پانچ سال قبل جو پائپ لائیں ڈالی گئی تھی۔ اُس کو استعمال کرتے ہوئے شہر کو پانی لایا جارہا ہے ۔ کے سی آر نے یہ وعدہ کیا تھا کہ مشن بھگیرتا سے ہر گھر کو پینے کا پانی سربراہ کیا جائے گا مگر کے سی آر کا یہ وعدہ پورا نہیں ہوپایا کیونکہ پانچ برس قبل سے شروع کئے گئے مشن بھگیر تا کے کام ہنوز جاری ہیں۔

جواب چھوڑیں