دونوں شہروں میں شدید گرمی، عام زندگی متاثر

ریاست تلنگانہ میں گرمی کی لہر برقرار ہے۔ دونوں شہرحیدرآباد اتور کو بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہا ہے۔ آج شہر کے مختلف علاقوں میں اعظم ترین درجہ حرارت 43 ڈگری سلسیس درج کیا گیا ہے۔ دن کے ساتھ رات کا بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ درج کیا جارہا ہے۔ حالیہ برسوں میں حیدرآباد کا جاریہ موسم انتہائی گرم قرار دیا جارہا ہے۔ ماہ مئی کے ابتداء سے ہی شہر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے یہاں حالیہ دنوں میں اعظم ترین درجہ حرارت 41 ڈگری سلسیس سے کچھ کم رہا مگر اس کے بعد درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مئی کے اواخر تک گرمی میں شدت برقرار رہے گی۔ اس طرح ریاست تلنگانہ اور شہر کے عوام کو آنے والے دنوں میں گرمی سے راحت ملنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ تلنگانہ اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پلاننگ سوسائٹی کے ڈاٹا کے مطابق ہفتہ کو شہر میں شدید گرمی تھی۔ 18 مئی کو شہر میں اعظم ترین درجہ حرارت 43 ڈگری سلسیس درج کیا گیا۔ مولاعلی میں 42.9، مادھاپور میں 42.6 اور بہادر پورہ علاقہ میں اعظم ترین درجہ حرارت 42.4 ڈگری سلسیس نوٹ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے بموجب گزشتہ 4 برسوں کے دوران شہر میں مئی انتہائی گرم مہینہ رہا ہے۔ رواں سال 15 مئی کو شہر کا اعظم ترین درجہ حرارت 43.2درج کیا گیا تھا۔ اس طرح سال 2016میں ماہ مئی کے دوران شہر کا اعظم ترین درجہ حرارت 42.5 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سال 2017ء اور 2018ء میں شہر میں مئی کا اعظم ترین درجہ بالترتیب 43.2 اور 42.5 دگری سلسیس نوٹ کیا گیا تھا۔ محکمہ موسمیات کے عہدیداروں نے پیش قیاسی کی کہ رواں سال ماہ مئی کے باقی ایام میں درجہ حرارت میں اضافہ کا امکان ہے۔ اس طرح آنے والے دنوں میں راتیں گرم رہیں گی۔ رات کا درجہ حرارت 30 ڈگری سلسیس کے آس پاس تک پہنچ جائے گا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں صبح8 بجے سے شام 5 بجے تک جھلسا دینے والی گرمی سے عوام سخت پریشان ہیں۔ شدید گرمی کے سبب عوام گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور شہر کی کئی مصروف ترین سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کررہی ہیں۔ سڑکوں سے ٹریفک غائب ہے۔ شاپنگ کامپلکس، گاہکوں سے خالی نظر آرہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی اس پیش قیاسی کے بعد عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا کہ مانسون معمول سے 4 دن کی تاخیر سے تلنگانہ پہنچے گا۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے عوام سے خواہش کی ہے کہ وہ صبح10 بجے دن کے بعد گھروں سے غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔ ناگزیر وجوہات میں سر اور کانوں کو ڈھانک کر باہر نکلیں۔ بچوں اور معمر افراد کو گرمی سے بچائے رکھیں۔ مشروبات اور پانی زیادہ استعمال کریں۔ کاٹن کے ڈھیلے ڈھالے لباس زیب تن کریں ۔ سن اسٹروک کی صورت میں فوری قریبی دواخانہ سے رجوع ہوجائیں۔

جواب چھوڑیں