دھوکہ دہی کے الزام میں ڈاکٹر گرفتار‘ بیوی مفرور

کشائی گوڑہ پولیس اسٹیشن میں ڈاکٹر خواجہ فیض الدین ساکن وجئے پوری کالونی دیگر 100 ملازمین کے ساتھ ’پولومی ہاسپٹل‘ کشائی گوڑہ کے مختلف ونگس میں ملازمت کرتے ہیں۔ انہوں نے پولیس میں ہاسپٹل انتظامیہ کے خلاف یکم جنوری 2019 میں شکایت درج کروائی تھی۔ پولیس کے بموجب چیرمین براؤنڈ والڈ ہاسپٹل ڈاکٹر نریندر وکراما آدتیہ یادو نے دواخانہ کا انتظامیہ پارتا سارتھی سے حاصل کرلیا۔ اسی دن چیرمین اور ان کی بیوی دیویا راوت نے پے رول اور ملازمت کے خطوط براؤنڈوالڈ ہاسپٹل کو دئیے اور نئے ملازمین کو یکم جنوری سے ملازمت پر رکھ لیا۔ ملازمین کی جانب سے تنخواہوں کا مطالبہ کرنے پر ان کو بغیر کسی نوٹس اور وجوہات بتائے بغیر دواخانہ سے باہر نکل جانے کے لئے کہا۔ ملازمین کے فروری کی تنخواہوں میں سے 10 فیصد تنخواہ کی کٹوتی کردی گئی اور فروری کے تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں۔ جو ملازمین مارچ 2019 میں استعفے دئیے تھے۔ ملازمین کی جانب سے تنخواہوں کا مطالبہ کرنے پر باونسروں کے ذریعہ ان کو دواخانہ میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں ڈرایا دھمکایاگیا۔ اپریل کے ماہ کی تنخواہیں ملازمین کو ابھی تک ادا نہیں کی گئیں۔ پولیس کے بموجب 18 اپریل کو شکایت گزار اور ملازمین، چیرمین کے مکان کو پہنچے، جس پر چیرمین نے وعدہ کیا کہ سب کی تنخواہیں ادا کردی جائیں گی۔ ملزم نے دوران تحقیقات پولیس کو بتایا کہ اس نے ہمبندو ہاسپٹل، ایل بی نگر میں بھی اسی طرح ملازمین کو دھوکہ دیاتھا۔ پولیس نے عدالت سے 20 مئی کو پولیس تحویل حاصل کی۔ بعد ازاں ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کیاگیا۔ چیرمین کی بیوی آدتیہ راوت اور دیگر افراد کی گرفتاری باقی ہے، جو مفرور بتائے گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ چیرمین اور اس کی بیوی دونوں کے خلاف پیٹ بشیرآباد میں بھی آج ایک مقدمہ درج کیاگیا۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

جواب چھوڑیں