چندرا بابو نائیڈو کی منفردتاریخ‘ باپ اور بیٹے کے ہاتھوں شکست

آندھرا پردیش اسمبلی انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس کی زبردست کامیابی کے بعد جگن موہن ریڈی نے اپنے کٹر سیاسی حریف این چندرا بابو نائیڈو سے سیاسی انتقام لے لیا ۔ اس طرح وائی ایس آر خاندان نے نائیڈو پر اپنی سیاسی سبقت برقرار رکھی ۔ جگن موہن ریڈی کے ہاتھوں شکست کے بعد چندرا بابو نائیڈو، والد اور فرزند کے ہاتھوں شکست ( راج شیکھر ریڈی اور جگن موہن ریڈی) سے دوچار ہونے والی منفرد فہرست کا حصہ بن گئے ۔2004 اور2009 میں چندرا بابو نائیڈو کو ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے ہاتھوں مسلسل دو بار شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا ۔ اب 2019 میں انہیں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے فرزند اور وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ وائی ایس جگن موہن ریڈی کے ہاتھوں کراری شکست کا سامنا کرناپڑا۔ ہندوستانی سیاست میں شائد ایک ایسا منفرد واقعہ ہے جہاں ایک چیف منسٹر کو والد اور فرزند کے ہاتھوں دو الگ الگ مواقع پر شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہو ۔2004 میں راج شیکھر ریڈی نے برسر اقتدار تلگودیشم پارٹی کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے نائیڈو کو عہدے چیف منسٹر سے بے دخل کردیا تھا ۔ پھر دس سال تک نائیڈو کو قائد اپوزیشن رہنا پڑا تھا ۔ چندرا بابو نائیڈو کو ریاست میں سب سے طویل عرصہ تک (10سال) قائد اپوزیشن رہنے کا اعزاز حاصل ہے ۔ اے پی کی تقسیم کے بعد چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت تلگودیشم پارٹی کو دوبارہ اقتدار حاصل ہوا اور چندرا بابو نائیڈو نے منقسم ریاست اے پی کے پہلے چیف منسٹر بن گئے ۔ پانچ سال بعد2019 میں جگن نے اپنے والد کے ریکارڈ کو برابر کرتے ہوئے نائیڈو کو اقتدار سے بے دخل کرتے ہوئے ریاست کے چیف منسٹر بننے جارہے ہیں ۔ ملک کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ والد اور فرزند نے چیف منسٹر بننے کیلئے ا یک ہی شخص کو ہر ا یا ہو۔

جواب چھوڑیں