اے پی کے 32فیصد ارکان اسمبلی کیخلاف سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمات

آندھرا پردیش اسمبلی کے نو منتخب174 کے منجملہ زائد از 151 ایم ایل ایز نے خود اعلان کیا ہے کہ ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں ۔ ان میں55 یا32 فیصد ارکان کے خلاف سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں۔ اس بات کا انکشاف خود ان نو منتخب ارکان نے اپنے حلف نامہ میں کیا ہے ۔ آندھرا پردیش الیکشن واچ( اے پی ای ڈبلیو) اینڈ اسوسی ایشن آف ڈیمو کریٹک ریفارمس ( اے ڈی آر) کے حوالہ سے یہ بات بتائی گئی ہے ۔ اس رپورٹ میں بتایا کہ8 ارکان اسمبلی سزا یافتہ ( مجرم قرار دیا گیا ) ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ایم ایل اے رام کرشنا ریڈی پنیلی نے قتل سے مربوط ایک کیس میں ماخوذ ہیں جبکہ دیگر 10 ارکان اسمبلی نے اقدام قتل سے مربوط کیسوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔6 ایم ایل ایز نے انکشاف کیا کہ وہ خواتین پر حملوں ، خواتین پر جبری ظلم ا ور ان کے ساتھ دست درازی، فقرہ بازی، خواتین کے ساتھ ہتک آمیز سلوک جیسے جرائم کے کیسوں میں ماخوذ ہیں، مزید 7ارکان اسمبلی نے اعتراف کیا ہے ان کے خلاف اغوا سے مربوط مقدمات درج ہیں۔بڑی جماعتوں کے نو منتخب ارکان اسمبلی نے حلف ناموں میں اعتراف کیا ہے ان کے خلاف سنگین نوعیت کے جن فوجداری مقدمات درج ہیں ان میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے150 میں50( 33 فیصد) ، تلگودیشم پارٹی کے 23میں4(17 فیصد) اور جناسینا پارٹی کے واحد نو منتخب ارکان اسمبلی شامل ہیں ۔ اے پی ای ڈبلیو اور اے ڈی آر نے 175 کے منجملہ174 ایم ایل ایز کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا ہے ان 174میں160 مرد اور14 خاتون ارکان اسمبلی شامل ہیں جن کی جانب سے داخل کردہ حلف ناموں کا تجزیہ کیا گیا ۔حلقہ اسمبلی چوڑاورم کے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے منتخب ایم ایل اے ، کار انم دھرماری کے حلف نامہ کا تجزیہ نہیں کیا جاسکا کیونکہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دھرماری کا مکمل حلف نامہ دستیاب نہیں اور ان کا حلف نامہ مکمل اسکیان شدہ نہیں ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 174 کے منجملہ163(94 فیصد) ارکان اسمبلی کروڑ پتی ہیں۔ اے ڈی آر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ150 میں وائی ایس آر سی پی کے140، ارکان اسمبلی (93 فیصد) ٹی ڈی پی کے 23 کے منجملہ22 (96فیصد) اور جنا سینا پارٹی کا واحد رکن اسمبلی نے ایک کروڑ سے زائد اپنے اثاثوں کا انکشاف کیا ہے ۔ ہر ایک رکن اسمبلی کے اوسطاً اثاثے27.87 کروڑ روپے لگائے گئے ہیں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے150 ارکان اسمبلی کے اوسطاً اثاثہ جات فی کس22.41 کروڑ روپے لگائے گئے ہیں ۔ جبکہ ٹی ڈی پی کے23 ایم ایل ایز کے اثاثہ فی کس 64.61 کروڑ روپے لگائے گئے ہیں ۔ تلگودیشم پارٹی کے سربراہ این چندرا بابو نائیڈو جو حلقہ کپم سے منتخب ہوئے ہیں۔ اُن تین ارکان اسمبلی میں شامل ہیں جنہوںنے سب سے زیادہ اثاثوں کا اعلان کیا ہے۔ نائیڈو نے اپنے حلف نامہ میں 668 مالیت کے اثاثوں کا اعلان کیا ہے ۔ دوسرے نمبر پر جگن موہن ریڈی ہیں جنہوں نے510کروڑمالیتی اثاثوں کا اعلان کیا ہے ۔ ٹی ڈی پی کے ایم ایل اے ہندوپور نندا موری بالکرشنا نے 274کروڑ اثاثوں کا اعلان کیا ہے۔

جواب چھوڑیں