اساتذہ کی جائیدادوں پر عدم تقررات‘ امیدوار خودکشی پر مجبور:ومشی ریڈی

سکریٹری اے آئی سی سی وسابق رکن اسمبلی کلواکرتی ومشی چندرریڈی نے کہا ہے کہ ریاست میں اساتذہ کی 30ہزار مخلوعہ جائیدادوں پر عدم تقررات سے بیروزگار ٹیچرس خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ انہوں نے محبوب نگر‘ ناگرکرنول‘ سرسلہ اور جگتیال میں بیروزگار نوجوانوں کی خودکشی کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی میں ٹی آر ایس حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ ریاست میں 5لاکھ ٹیچرس گذشتہ 5سال سے بیروزگار ہیں۔ سال 2018میں 8,792ٹی آر ٹی ٹرینڈ ٹیچرس امتحانات میں اہل قرار پائے تھے ان کے اسنادات کی تنقیع بھی کرلی گئی تھی مگر آج تک ان کے تقررات عمل میں نہیں لائے گئے۔ ومشی چندرریڈی آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے وزیرتعلیم سے مذکورہ 8,792ٹیچرس جائیدادوں پر فوری تقررات عمل میں لانے یا پھر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ ومشی چندرریڈی نے کہا کہ کے سی آر اپنے آپ کو ملک کا نمبر ون چیف منسٹر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن تلنگانہ‘ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں 5سال کے دوران ایک بھی ٹیچر کا تقرر نہیں کیا گیا۔ کانگریس قائد نے کہا کہ وہ گذشتہ اسمبلی میں بیروزگار ٹیچرس کے مسائل کو زیر بحث لائے تھے جس پر اس وقت کے چیف منسٹر نے انہیں اساتذہ کے تقررات کا تیقن دیا تھا۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے 2018میں اساتذہ کے تقررات کو روبہ عمل لانے کیلئے حکومت کو 4ہفتوں کی مہلت دی تھی لیکن چیف سکریٹری تلنگانہ نے سپریم کورٹ کو دئیے گئے جواب میں کہا تھا کہ چونکہ تلنگانہ میں نئے اضلاع تشکیل کا عمل جاری ہے اسی لئے اساتدہ کے تقررات میں تاخیر ہورہی ہے۔ ومشی چندر ریڈی نے تلنگانہ حکومت پر زور دیا کہ وہ کل منعقد ہونے والے کابینی اجلاس میں اساتدہ کی منظورہ 8,792جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کرے۔ مابقی 30ہزار جائیدادوں پر میگا ڈی ایس سی کے ذریعہ تقررات کے عمل کو پورا کیا جانا چاہیئے بصورت دیگر بیروزگار ٹیچرس اور ارکان خاندان کے ساتھ وہ چیف منسٹر کی رہائش گاہ پرگتی بھون کا گھیرائو کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *