تلنگانہ اور اے پی میں ڈاکٹروں کی ہڑتال‘ مریضوں کو مشکلات

انڈین میڈیکل اسو سی ایشن کی اپیل پر آج تلنگانہ اور اے پی میں بھی ڈاکٹروں نے ایک روزہ ہڑتال کی۔ ریاست مغربی بنگال میں ڈاکٹروں پر حملوں کے خلاف انڈین میڈیکل اسو سی ایشن نے ملک گیر ہڑتال ی اپیل کی تھی۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے تلگو کی دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے تمام سرکاری اور خانگی ہاسپٹلوں میں طبی خدمات مفلوج ہوگئیں۔ اس ہڑتال کی وجہ سے شہر کے بڑے سرکاری دواخانوں عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس(نمس) میں آوٹ پیشنٹس خدمات بُری طرح متاثر رہیں۔ ریاست کے مختلف دور دراز مقامات سے ان ہاسپٹلوں کو آنے والے سینکڑوں مریضوں کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان ہاسپٹلوں کے ڈاکٹرس ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے اور تمام ڈاکٹرس مغربی بنگال میں طبی عملہ پر حملوں کی مذمت میں احتجاج میں شریک تھے۔ گورنمنٹ‘ کارپوریٹ ہاسپٹلوں اور نرسنگ ہومس کے ڈاکٹروں نے ایمرجنسی کے سوا تمام طبی خدمات کا بائیکاٹ کیا۔ عثمانیہ ہاسپٹل کے ڈاکٹروں نے دھرنا منظم کرتے ہوئے حملوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی ڈاکٹرس پلے کارڈز تھامے ہوئے تھے جن پر ’’نو سکیوریٹی نو سرویس‘‘ نعرے درج تھے۔ گاندھی ہاسپٹل میں احتجاج منظم کرتے ہوئے ڈاکٹروں نے اس طرح کے حملوں کو روکنے اور حملوں میں ملوث افراد کو سزا دلانے کیلئے سخت قانون وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریاست تلنگانہ کے دیگر تمام سرکاری اور خانگی دواخانوں میں بھی آوٹ پیشنٹس خدمات مفلوج رہیں۔ آئی ایم اے کی اپیل پر آندھراپردیش میں بھی ڈاکٹروں نے ہڑتال کی جس کی وجہ سے خانگی اور سرکاری دواخانوں کے مریضوںکو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وجئے واڑہ‘ گنٹور‘ وشاکھاپٹنم‘ تروپتی‘ کرنول اور دیگر مقامات پر ڈاکٹروں نے طبی خدمات کا بائیکاٹ کیا اور احتجاج میں شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *