نواز کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں، بیرون ملک بھیجنے کی ضرورت

 بدعنوانی کے معاملہ میں سزا بھگت رہے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ ان کا موکل مختلف بیماریوں کا شکار ہے اور علاج صرف بیرون ملک میں ہو سکتا ہے لہذا اسے ضمانت دی جانی چاہئے ۔وکیل خواجہ حارث نے بدھ کو نواز کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران عدالت میں کہا کہ انہیں ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کارڈیووسکلر جیسی بیماریاں ہیں اور ان کی جان کو خطرہ ہے ۔ ایڈووکیٹ نے کہا کہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے سابق وزیر اعظم ذہنی طور پرپریشان رہتے ہیں۔معاملے کی سماعت کر رہی جج عمر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی کی بنچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈائرکٹر جنرل عرفان منگي کی جانب سے نواز کی ضمانت پر جواب دینے میں تاخیر پر ناراضگی ظاہر کی۔نیب کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ کام کے بوجھ کی وجہ سے وہ وقت پر جواب نہیں دے پائے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ اگلی بار اس میں تاخیر نہیں ہوگی۔ جج عمرفاروق کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ضمانت کا حق رکھتا ہے تو پراسیکیوٹر کی جانب سے جواب دینے میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے ۔نواز کے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے اس کے کلائنٹ کی تازہ طبی رپورٹ نہیں دیکھی ہے ۔ جج عمرفاروق نے وکیل سے کہا کہ وہ اپنی دلیل پیش کریں کہ کیا ایک ضمانت کی درخواست طبی بنیاد پر دوبارہ دائر کی جا سکتی ہے اگرچہ ایسی درخواست پہلے مسترد کر دی گئی ہو۔وکیل نے کہا‘‘عام طور پر اسی بنیاد پر دوسری عرضی دائر نہیں کی جا سکتی ہے جس کی بنیاد پر پہلے درخواست مسترد کی گئی ہو’’۔ عدالت نے تاہم یہ بھی کہا اس معاملہ میں صورت حال مختلف ہے ۔وکیل نے عدالت سے اپیل کی کہ اس بنیاد پر دوبارہ عرضی دائر کرنے کی ملک میں روایت رہی ہے ۔ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزم کی صحت کی حالت میں تبدیلی آنے کی بنیاد پر درخواست پھر دائر کی جا سکتی ہے ۔

جواب چھوڑیں