ڈاکٹر محمد مرسی کی موت: اردگان کا مصری حکومت کو عالمی عدالت میں لیجانے کا اعلان

مصر کے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی موت پر ترکی کے صدر رجب طیب ارد گان نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ سابق صدر کی موت کے ‘مجرم’ مصری حکومت کو عالمی عدالت میں لے جائیں گے ۔استنبول میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں 20 منٹ تک مدد کے لیے ہاتھ ہلاتے رہے لیکن حکام نے توجہ نہیں دی۔انہوں نے کہا کہ ‘‘میں اس لئے کہتا ہوں کہ محمد مرسی مرے نہیں بلکہ انہیں قتل کیا گیا’’۔رجب طیب ارد گان نے اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) سے مطالبہ کیا کہ وہ محمد مرسی کے قتل پر سخت اقدام اٹھائے ۔ان کا کہنا تھا کہ ‘‘ہم، بحیثیت ترک، اس مسئلہ کو زندہ رکھیں گے اور محمد مرسی کے قتل کے جرم میں مصرکی حکومت کو عالمی عدالت میں لے جائیں گے ’’۔ترکی کے صدر نے محمد مرسی کو شہید کا لقب دیا اور کہا مجھے یقین ہے کہ محمد مرسی کی موت قدرتی وجوہات کے سبب نہیں تھی۔رجب طیب ارد گان نے مزید کہا کہ وہ مذکورہ معاملہ رواں ماہ کے اواخر میں منعقد ہونے والے جی -20 سمٹ میں اٹھائیں گے ۔واضح رہے کہ مصر کے سابق صدر محمد مُرسی 17 جون کو کمرہ عدالت میں انتقال کر گئے تھے ۔عدالتی ذرائع کا کہنا تھا کہ محمد مرسی عدالت میں موجود پنجرے نما سیل میں بند تھے جہاں انہوں نے کچھ دیر جج سے گفتگو کی، سابق صدر نے جج سے تقریباً 20 منٹ تک بات کی، اس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئے جس پر انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے ۔محمد مرسی کو جاسوسی، مظاہرین کو قتل کروانے اور جیل توڑنے کے الزامات کے تحت عمر قید، سزائے موت اور 20 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئی تھی۔‘ الجزیرہ’ کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ گروپ نے محمد مرسی کی وفات کو ‘خوفناک’ قرار دیا تھا۔گروپ کا کہنا تھا کہ مصری حکومت سابق صدر کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے محمد مرسی کے کمرہ عدالت میں انتقال اور پنجرے میں گزرے ان کے آخری لمحات سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔

جواب چھوڑیں