ژی جن پنگ کی کم جانگ اُن سے ملاقات کیلئے شمالی کوریا میں آمد

گذشہ 14سال میں پہلی مرتبہ چینی صدر کا دورہ۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو فروغ دینے کی نئی کوشش
پیان یانگ۔20۔جون(اے ایف پی) چین کے صدر ژی جن پنگ تاریخی دورہ پر آج پیانگ یانگ پہونچے تاکہ پریشان کن اتحاد کو ایک نئی شروعات فراہم کی جاسکے۔ شمالی کوریائی قائد کم جانگ ان اور ژی جن پنگ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ مخصوص مسائل کا سامنا ہے۔ ژی پہلے چینی صدر ہیں جو 14سالوں میں شمالی کوریا کا پہلی مرتبہ دورہ کر رہے ہیں۔ سرد جنگ کے حلیفوں کے کشیدہ ہوئے تھے پیانگ یانگ کے نیوکلیئر اشتعال انگیز اقدامات اور بعدازاں بیجنگ کی جانب سے اقوام متحدہ کی تحدیدات کی تائید کی وجہ سے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوگیا تھا۔ ژی اور کم ان تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ شمالی کوریا کے نوجوان قائد نے گذشتہ سال چین میں ژی جن پنگ سے چار مرتبہ ملاقات کرتے ہوئے اپیل کی تھی کہ تحدیدات میں نرمی کی جائے لیکن چینی قائد ان کے دورہ کے بعد اپنے دورہ کے منتظر تھے۔ وہ کم اور ٹرمپ کے درمیان نیوکلیئر مذاکرات کے انجام کے منتظر تھے تاکہ پیانگ یانگ سفر کا فیصلہ کیاجاسکے۔ اس بات کا اظہار تجزیہ نگاروں نے کیا۔ ژی‘ دو روزہ دورہ پر شمالی کوریا آج صبح پہونچے ہیں۔ چین کے سی سی ٹی وی نے یہ بات بتائی۔ وہ اپنی اہلیہ پینگ لیاون‘ وزیر خارجہ وانگ ای اور دیگر عہدیداروں کے ہمراہ دورہ کر رہے ہیں۔ اس بات کا اظہار چین کے سرکاری میڈیا میں کیا گیا۔ پیانگ یانگ میں سارے شہر میں چینی قومی پرچم لہرا رہے تھے اور شہری ژی جن پنگ کے خیرمقدم کیلئے سڑک پر قطار باندھے کھڑے تھے۔ اخبار روڈانگ سنمن جو حکمراں پارٹی کا ترجمان ہے اس نے ژی کے دورہ کو صفحہ اول پر تقریباً نصف جگہ فراہم کیجس میں ان کی تصویر کے ساتھ ان کا پروفائل بھی موجود تھا۔ اداریہ میں بتایا گیا کہ اس دورہ کے نتیجہ میں ڈی پی آر کے۔چین دوستی کی تاریخ میں ایک نیا اور دیرپہ صفحہ رقم ہوگا۔ اداریہ میں مزید بتایا گیا کہ ہمارے ملک کا دورہ جو پیچیدہ بین الاقوامی تعلقات کی وجہ سے عجلت طلب اور اہم معاملہ کی حیثیت سے منظر عام پر آنے کے باوجود عمل میں آرہا ہے اس سے واضح طورپر اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ چینی پارٹی اور حکومت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ اخبار نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے عوام کو چینی عوام جیسے گہرے اور قابل اعتماد دوست کی موجودگی پر فخر ہے۔ سرکاری عہدیداروں نے اس دورہ کی رپورٹنگ پر سخت کنٹرول رکھا ہے۔ پیانگ یانگ میں بین الاقوامی صحافیوں کو بتایا گیا کہ وہ اس کی رپورٹنگ نہیں کر سکیں گے جبکہ بیرونی میڈیا تنظیمیں جنہیں ابتداء میں شرکت کیلئے مدعو کیا گیا تھا انہیں ویزے حاصل نہیں ہوسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ ژی کے ہمراہ چینی میڈیا وفد نے بتایا کہ ابتدائی منصوبوں کے برعکس دورہ مختصر رہا ہے۔ یہ دورہ بڑی حد تک علامتی ہے جبکہ کسی مشترکہ اعلامیہ کی کوئی توقع نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح روس کے ولادی ووستوک میں روسی صدر ولادیمیرپوٹین کے ساتھ اپریل میں کم کی چوٹی کانفرنس ہوئی تھی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اس علاقہ میں چین کے اثر ورسوخ کے مظاہرہ کا موقع ہے۔ شمالی کوریا کیلئے آنے والی میٹنگ امریکہ کیلئے اس بات کا اظہار ہوگی کہ اسے چین کی تائید حاصل ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کا مقصد واشنگٹن کو یہ پیام دینا ہے کہ وہ اپنے اعظم ترین کے دبائو کو ترک کردے۔ اس بات کا اظہار کیونگنم یونیورسٹی میں نارتھ کورین اسٹڈیز کے پروفیسر لم یول چیل نے کیا۔

جواب چھوڑیں