ہریانہ میں ’’گائے یا بیف‘‘ منتقل کرنے والی گاڑیوں کی تلاشی کیلئے پولیس کو اختیار

ریانہ میں اب ایک پولیس عہدیدار یا کوئی مجاز کردہ عہدیدار‘ ’’گائیوں یا بیف‘‘ کی منتقلی کیلئے استعمال کردہ یا ایسے استعمال کیلئے رکھی گئی کسی گاڑی کو روک سکتا ہے اور اس گاڑی کی تلاشی لے سکتا ہے۔ ریاستی کابینہ کا ایک اجلاس آج چیف منسٹر منوہرلال کھٹر کی زیرصدارت منعقد ہوا اور ہریانہ گاؤ ونش سنرکھشن و گاؤ سموردھن ایکٹ (2015 ) میں ترمیم کی گئی۔ حکومت کے ترجمان نے آئی اے این ایس کو بتایاکہ ہریانہ گاؤ ونش سنرکھشن و گاؤ سموردھن (ترمیمی) بل (2019 ) ‘زیادہ سخت اور عملی ہے۔ مذکورہ ترمیم کے بموجب کوئی پولیس عہدیدار جس کا درجہ سب انسپکٹر سے کم نہ ہو، یا کوئی شخص جو حکومت کا مجاز کردہ ہو، گائے یا گائے کے گوشت کی منتقلی کیلئے استعمال کردہ کوئی گاڑی یا اس مقصد کیلئے رکھی گئی گاڑی کو روک سکتا ہے اور اس کی تلاشی لے سکتا ہے۔ اگر ایسے عہدیدار کو یہ شبہ ہو کہ مذکورہ ایکٹ کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی کی جارہی ہے یا خلاف ورزی کی جانے والی ہے تو عہدیدار ایسی کسی گاڑی کو جس میں گائے یا بیف پایاجائے‘ اس گاڑی کو اور ’’گائے یا بیف‘‘ کوضبط کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ایسا عہدیدار یا مجاز کردہ عہدیدار ضبط کردہ گائے یا بیف کو عدالت میں پیش کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرسکتا ہے۔ ایسے عہدیدار کو اختیارہے کہ وہ ذبیحہ گاؤ کے لئے استعمال کردہ یا اس مقصد کیلئے مخصوص کردہ مقامات میں داخل ہو اور ان کی تلاشی لے ونیز اس مقام سے اکٹھا کردہ ثبوت وشواہد ونیز گائے وبیف کو ضبط کرے۔ حکومت کے ترجمان نے یہ بات بتائی۔

جواب چھوڑیں