تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں نیومیونسپل ایکٹ منظور۔ بلدیات کی کارکردگی کو شفاف بنانا مقصود

تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے خصوصی سیشن کے دوسرے وقطعی دن جمعہ کو ایوان میں نیو میونسپل ایکٹ بل کو متعارف کرایا گیا اور بعد مباحث اس بل کو منطور بھی کرلیا گیا۔ نیو میونسپل ایکٹ بل میں غریب اور متوسط خاندان کے افراد کو بڑی راحت فراہم کی گئی ہے۔ اس بل کی رو سے 75مربع گز اراضی پر رہائشی مکان تعمیر کے خواہش مند افراد کو حصول اجازت کیلئے صرف ایک روپیہ بطور فیس آن لائن داخل کرنا ہوگا اور مقررہ وقت میں تعمیر مکان کی اجازت دی جائے گی اور ان افراد سے سالانہ ایک سو روپے ٹیکس (محاصل) وصول کیا جائے گا۔ مکانات کے تعمیر کی اجازت کیلئے شہریان کو بلدی دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ انہیں صرف آن لائن کے ذریعہ درخواست داخل کرنا ہوگا۔ مقررہ وقت کے اندر درخواست گذار کو مکان کی تعمیر کی اجازت مل جائے گی اگر مقرہ وقت کے اندر اجازت نہیں ملتی ہے تو اس کو درخواست کی توثیق (منظوری) سمجھا جائے۔ اسمبلی میں آج نئے بلدی قانون بل متعارف کرنے کے بعد چیف منسٹر کے چندرشیکھر نے اس بل کی اہم خصوصیات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے یہ بات کہی۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے مزید کہا کہ غریب ومتوسط خاندان کے افراد‘ اس اجازت سے گرائونڈ+ایک فلور مکان تعمیر کرسکتے ہیں۔ اس طرح جو افراد‘ 500یا اس سے زیادہ مربع گز اراضی پر مکانات تعمیر کرنا چاہتے ہیں‘ انہیں مقررہ (درکار) فیس آن لائن داخل کرنا لازمی رہے گا۔ آن لائن درخواست داخل کرنے کے بعد درخواست گذار کو مقررہ وقت میں مکان کے تعمیر کی اجازت مل جائے گی۔لے آوٹ کی منظوری کیلئے متعلقہ ضلع کلکٹر کو درخواست دینا ہوگا۔ ضلع کلکٹر‘ لے آوٹ کو منظور کرنے کے مجاز رہیں گے۔ چیف منسٹر نے ایوان میں نیو میونسپل بل 2019پر مباحث کے دوران کہا کہ اس بل کے مطابق ریاست میں جملہ 141اربن لوکل باڈیزہیں ان میں 128بلدیات اور 13میونسپل کارپوریشنس شامل ہیں۔ ان میں نئے بلدیہ زیادہ ہیں۔ گرام پنچایتوں کو بلدیات کا درجہ دیا گیا ہے۔ بلدیات کا مالی موقف مستحکم نہیں ہے۔ 14ویں فینانس کمیشن کے مطابق مرکز نے ریاست کی بلدیات کیلئے 1,030کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ اس میں ریاستی حکومت بھی 1030کروڑ روپئے اپنے حصہ کی رقم جاری کرے گی۔ اس طرح مرکز اور ریاستی حکومتوں کا اشتراک ملانے سے جملہ رقم 2060کروڑ روپئے ہوتی ہے۔ اس رقم کو بلدیات کی ترقی پر خرچ کیاجاتا ہے۔ آمدنی کے دیگر ذرائع کو قطعیت دیا جانا چاہیئے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں بلدیات کو فنڈس جاری کرتی ہیں۔ اس دوران مختلف بلدیات کیلئے بجٹ کی تیاری کا اہم کام ضلع کلکٹرس کریں گے۔ اگر کوئی منتخب عوامی نمائندہ یا عہدیدار‘ فرائض سے پہلوتہی کرتا ہے یا اس کی کارکردگی متذکرہ بل کے عین مطابق نہیں ہے‘ حکومت کے اختراعی پروگرامس جیسے ہریتا ہارم وغیرہ کو روبعمل لانے میں ناکام رہتا ہے‘ تو متعلقہ ضلع کلکٹرس ان دونوں (عوامی نمائندہ اور عہدیدار) کے خلاف کارروائی کے مجاز ہوں گے۔ کلکٹر کی کارروائی پر متعلقہ وزیر اس سلسلہ میں مداخلت بھی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اربن لوکل باڈیز کے منتخب عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ نیومیونسپل ایکٹ بل میں کرپشن اور منسوبہ کام کی تکمیل میں لاپرواہی برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اس بل میں ٹکنالوجی کے استعمال سے شہریان کو درپیش مسائل کو کم سے کم کرنا اور انہیں بلدی دفاتر کے چکر لگانے سے نجات دلانا (مختلف اسناد کے حصول بشمول مکان کی تعمیر کی اجازت) اور کرپشن کا یکسر خاتمہ اس بل کو متعارف کرانے کا اہم مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جی ایچ ایم سی کے بشمول گریٹر ورنگل‘ نظام آباد‘ رام گنڈم اور کریم نگر میونسپل کارپوریشنوں کے علاوہ حکومت مزید 7 میونسپل کاریشنس قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بڈنگ پیٹ‘ بنڈلہ گوڑہ جاگیراور میرپیٹ (ضلع رنگاریڈی) بوڈواپل‘ پیرزادی گوڑہ‘ جواہر نگر اور نظام پیٹ(ضلع میڑچل‘ ملکاجگری) نئے میونسپل کارپوریشنس ہوں گے۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے کہا کہ اس بل کو پیش ومنظور کرانے کا مقصد شہری ادارہ جات(بلدیات) کو مزید شفاف‘ پابند وقت‘ جوابدہ اور سٹیزن فرینڈلی بنانا ہے۔ ان لوکل باڈیز میں جنگلات کو فروغ دینے کے ساتھ سائنسی نقطہ نظر کو پیش رکھتے ہوئے بجٹ تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جدید بل میں ضلع کلکٹرس کو مزید اختیارات عطا کئے گئے ہیں۔ ضلع کلکٹر کو بلدیات کے منتخب عوامی نمائندہ اور متعلقہ عہدیدار کو معطل کرنے کا اختیار رہے گا۔ ضلع کلکٹروں کی نگرانی میں تمام بلدیات کام کریں گے۔ ضلع کلکٹروں کو بلدیات کے فیصلوں کو کالعدم قرار دینے کا بھی اختیار رہے گا۔ تمام بلدیات اپنے ماسٹر پلان کے ساتھ کام کریں گی اور اس پلان کے مطابق ترقیاتی کاموں کو انجام دینے کی مجاز رہیں گی۔ زیر زمین ڈرین نظام‘ پینے کے پانی کی سربراہی اور ویسٹ مینجمنٹ‘ اس ماسٹر پلان کا لازمی حصہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے مطابق ہر بلدیہ کو اپنے بجٹ کا 10فیصد حصہ شجرکاری (جنگل) کیلئے مختص کرنا لازمی رہے گا۔ ہر ایک بلدیہ میں نرسریز کا قیام اور اس کی نگہداشت بھی ضروری رہے گی۔

جواب چھوڑیں