قانون کی حکمرانی جدید جمہوری ممالک کا ماخذ: جسٹس گوگوئی

چیف جسٹس آف انڈیا ( سی جی آئی ) رنجن گوگوئی نے ہفتہ کے روز انسانی اور قانون کے اصول کے درمیان امتیاز کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عصری حاضر کے جمہوری ممالک میں قانون کی حکمرانی ایک روح کے طور پر ابھر رہی ہے ۔ وہ یہاں سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولیس اکیڈیمی میں 33 واں سردار ولبھ بھائی پٹیل میموریل لکچر ردے رہے تھے جس کا موضوع’’ ماڈرن ڈیمو کریسی میں رول آف لا‘‘ دیا گیا تھا ۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے ’’ پروبیشنرس کو ینگ اچیورس‘‘ اور ملک کے معمار قرار دیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ نوجوان مقاصد کے حصول کیلئے سخت محنت کریں گے ۔ مادر وطن کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو منتخب کرچکے ان پروبیشنرس کو مبارکباد دیتے ہوئے جسٹس گوگوئی نے پٹیل کی خدمات کو یاد کیا جنہوںنے طاقتور آئینی چوکھٹے میں انڈین سیول سرویسس کی بنیاد رکھی تاکہ ملک کی آزادی کی بنیاد کو مزید مستحکم کیا جاسکے ۔ جسٹس گوگوئی نے جمہوری نظام کے مفہوم پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں قانونی مساوات، سیاسی آزادی اور قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے ۔ انہوں نے حکومت کی پالیسی میں مداخلت پر انتباہ دیا اور کہا کہ قانون کی حکمرانی کیلئے عدلیہ کا مسلسل جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ ملک عزیز کی خدمت میں انڈین پولیس سرویس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جسٹس گوگوئی نے کہا کہ انڈین پولیس کی خدمات ، ملک کی تعمیر نو میں اہم رہی ہیں اور کہا کہ پولیس جوانوں اور اور عہدیداروں کی شہادت روایتی جنگ میں مارے جانے والوں سے کم نہیں ہے ۔چیف جسٹس آف انڈیا نے بے داغ فرائض کی ادائیگی پر زور دیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ تمام پروبیشنرس، اپنے اختیارات کا بیجا استعمال نہیں کریں گے بلکہ وہ اپنے اختیارات کے استعمال میں شفافیت رکھیں گے اور معقول وجوہ پر ہی اختیارات کا استعمال کریں گے ۔ اس پروگرام میں چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس رگھو یندرا چوہان ، ہائی کورٹ کے تمام جسٹس، رجسٹرار ، ریاستی وزیر داخلہ محمود علی ، ڈی جی پی ایم مہندر ریڈی، آندھرا پردیش کے ڈی جی پی ، ڈی گوتم سوانگ اور دیگر ممتاز افراد نے شرکت کی ۔ میموریل لکچرمیں2018 بیاچ کے آئی پی ایس پروبیشنرس نے شرکت کی ان میں15 بیرونی ممالک نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے 15پروبیشنرس بھی شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *