آروگیہ شری اسکیم کو معطل کرنے خانگی ہاسپٹلس انتظامیہ کی دھمکی

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے دعویٰ کے مطابق تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ریاست کا معاشی موقف بہتر ہوا ہے اور تلنگانہ ، فاضل بجٹ والی ریاست بن گئی ہے ۔ کے چندر شیکھر راؤ کے اس دعویٰ کے باوجود ریاستی حکومت ، خانگی دواخانوں کے آروگیہ شری کے بقایہ جات ادا کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ آروگیہ شری اسکیم کے تحت کئی غریب مریضوں کا کارپوریٹ ہاسپٹلوں میں مفت علاج کیا جاتا ہے تاہم حکومت ، ان ہاسپٹلوں کو بقایہ جات ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔ بقایہ کی عدم ادائیگی پر پرائیوٹ ہاسپٹلس نے آروگیہ شری اسکیم کے تحت غریبوں کو مفت علاج ومعالجہ کی سہولت معطل کرنے کی دھمکی دی ہے جس سے 84.5لاکھ غریب ( خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد )، تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور صحافی متاثر ہوں گے ۔ ریاست کے220 خانگی ہاسپٹلوں میں آروگیہ شری ہیلت اسکیم کی سہولت حاصل ہے مگر ان خانگی ہاسپٹلوں نے واضح کردیا ہے کہ اگر حکومت، بقایہ ادا نہیں کرتی ہے تو وہ اس اسکیم کے تحت مفت علاج ومعالجہ کی سہولتوں کو ختم کردیں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان ہاسپٹلوں کو1500 کروڑ روپے ادا شدنی ہے ۔ واضح رہے کہ متحدہ ریاست اے پی کے سابق چیف منسٹر راج شیکھر ریڈی نے اپنے دور حکومت میں2007 میں منفرد آروگیہ شری ہیلت اسکیم کو متعارف کرایا تھا ۔ جس کا مقصد غریبوں کو کارپوریٹ ہاسپٹلوں میں علاج ومعالجہ کی مفت سہولتیں فراہم کرنا تھا ۔ تب سے تشکیل تلنگانہ کے بعد بھی حکومت نے اس اسکیم کے نرخ پیاکیج پر نظر ثانی نہیں کی ہے جس سے خانگی ہاسپٹل انتظامیہ ناراض ہے۔ نرخ پیاکجوں پر عدم نظر ثانی اور بقایہ ادا نہ کئے جانے پر تمام کارپوریٹ وخانگی ہاسپٹلس پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے ۔ ان برسوں میں علاج اور اس کی سہولتیں مہنگی ہوگئی مگر ریاستی حکومت نے قدیم نرخ پیاکیج کو برقرار رکھا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت، تلنگانہ میں مرکز کی آیوشمان بھارت اسکیم کو بھی نافذ نہیں کررہی ہے۔ کے سی آر کا ادعا ہے کہ آیوشمان بھارت سے ریاست کی آروگیہ شری اسکیم بہت زیادہ اچھی ہے مگر اس کے باوجود حکومت خانگی ہاسپٹلوں کو آروگیہ شری اسکیم کے بقایہ ادا کرنے میں غیر ضروری تاخیر کررہی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *