ترقی میں ریسرچ اور اختراعات کا اہم رول:پرنب مکرجی 

سابق صدر جمہوریہ و بھارت رتن ایوارڈ یافتہ پرنب مکرجی نے یونیورسٹیوں ، تعلیمی اداروں ، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سرکاری تنظیموں پر زور دیا کہ ملک کی ہمہ جہت ترقی کیلئے ریسرچ پر مزید رقم خرچ کریں ۔ ہمیں ، ریسرچ( تحقیق ) پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگانے کی ضرورت ہے ۔ ہفتہ کی شام وشاکھا پٹنم میں39 واں گاندھی انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ مینجمنٹ (گیتم) ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد یہاں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے یہ بات کہی ۔ گیتم ایک ڈیمڈ یونیورسٹی ہے ۔ اس یونیورسٹی کی تاسیس کے موقع پر مختلف شعبہ جات میں گرانقدر خدمات انجام دینے والوں کو ہر سال فاونڈیشن ایوارڈ دیا جاتا ہے۔ اس سال کا ایوارڈ پرنب مکرجی کو دیا گیا ۔ سابق صدر جمہوریہ نے مزید کہا کہ ریسرچ اور اختراعات دو ایسے اہم امور ہیں جن کی مدد سے ملک کی پیداور کی صلاحیت کو بڑھا وا دیا جاسکتا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہندوستان میں تحقیق پر جی ڈی پی کا صرف0.8 فیصد حصہ صرف کیا جاتا ہے جبکہ جاپان میں3.6 فیصد، امریکہ میں2.7 فیصد اور چین میں تحقیق پر جی ڈی پی کی 2فیصد رقم صرف کی جاتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ترقی کیلئے اب یونیورسٹیوں ، تعلیمی اداروں اور دیگر کیلئے ریسرچ کاموں پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کا وقت آچکا ہے ۔ اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقاتی ادارے موثر انداز میں ریسرچ سرگرمیوں کو انجام دے سکتے ہیں۔ طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ہم ، چوتھے صنعتی انقلاب کے درمیان میں ہیں۔ سائنس کو علم اور ٹکنالوجی کو اپلی کینٹ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے ممالک جن کے پاس سائنس و ٹکنالوجی کی مضبوط بنیاد ہے، ان ممالک کی معیشت فروغ پارہی ہے اور ان ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کہتے ہیں ۔ عالمی ترقی میں سائنس و ٹکنالوجی اور اختراعات اہم عنصر کے طور پر ابھر رہے ہیں جبکہ ہندوستان، مہارتوں، انفرااسٹرکچر ، مینو فیکچرنگ اور خدمات میں سائنس وٹکنالوجی کے ذریعہ تیز رفتار ترقی کررہا ہے ۔ مکر جی نے کہا کہ اگرچیکہ ہندوستان ، ریسرچ اور ڈیولپمنٹل ایکوسسٹم میں آہستہ آہستہ ترقی کررہا ہے مگر یہ کافی نہیں ہے ۔یونیسکو کے مطابق ہندوستان ، ریسرچ اور اختراعات پر صرف0.8 فیصد رقم مختص و خرچ کرتا ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ ان کے دور صدارت میں ہمارے ملک کی کسی بھی یونیورسٹی ، دنیا بھر کے بسٹ 200یونیورسٹیوں کی فہرست میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے مگر خوشی کی بات ہے کہ دنیا کی ایک ہزار بہترین یونیورسٹیوں کی فہرست میں ہندوستان کی 23 یونیورسٹیاں جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں ان میں5 خانگی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ انہوںنے یونیورسٹیوں پر زور دیا کہ دنیا کی ٹاپ10 یونیورسٹیوں میں جگہ بنانے کیلئے سخت محنت کریں ۔ صدر گیتم یونیورسٹی ایم بھارت نے پر نب مکرجی کو گیتم فاونڈیشن ایوارڈ عطا کیا یہ ایوارڈ10لاکھ روپے نقد اور توصیف نامہ پر مشتمل ہے ۔ وائس چانسلر پروفیسر کے شیوا رام کرشنا نے یونیورسٹی کی سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *