حجاج کرام‘ رمی جمار میں مصروف۔ سعودی شاہ سلمان کا دورہ منیٰ۔ عالمِ عرب میں عیدالاضحی منائی گئی

لگ بھگ 25لاکھ حجاج نے ہفتہ کے دن رمی جمار کیا یعنی شیطان کو کنکریاں ماریں جبکہ دنیا بھر میں مسلمانوں نے عیدالاضحیٰ منائی۔ حجاج نے سرمنڈھواکر احرام اتاردیا۔ محمد صالح نے کہا کہ میں سوڈان سے مکہ مکرمہ آیا ہوں حج ادا کرنے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ تمام حاجیوں کا حج کامیاب رہا۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ 160 سے زائد ممالک سے 18لاکھ50ہزار خوش نصیبوں نے جاریہ سال حج کیا۔ مملکت سعودی عرب سے 6لاکھ 34ہزار افراد شامل ہوئے۔ ان میں لگ بھگ 70 فیصد غیر سعودی شہری ہیں جو مملکت میں رہ رہے ہیں۔ منیٰ‘ مکہ مکرمہ کے قریب وسیع وعریض وادی ہے جہاں ہزاروں ایرکنڈیشنڈ خیمے نصب کئے گئے ہیں۔ سعودی حکومت نے سڑکوں کو کشادہ کردیا ہے۔ ہزاروں فوجی، گارڈس اور پولیس والوں کی تعیناتی کے علاوہ ہزاروں کیمروں کے ذریعہ ہجوم پر نظررکھی جاتی ہے۔ سعودی میڈیا نے اطلاع دی کہ شاہ سلمان نے اتوار کے دن منیٰ پہنچ کر حج خدمات کی نگرانی کی۔ آج عید الاضحیٰ کے پہلے روز لاکھوں حجاج کرام نے نماز فجر کے بعد منیٰ کے مقام پر جمرہ عقبہ میں شیطان کوکنکریاں مارنے کا عمل شروع کیا جس کے بعد حجاج کی طرف سے قربانی دی گئی۔سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے’ایس پی اے’ کے نامہ نگاروں نے لمحہ بہ لمحہ حجاج کرام کے مناسک کی ادائی کی کوریج جاری رکھی ہوئی ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق جمرہ عقبہ میں رمی جمرات کے لیے بنائی گئی چار منزلہ جمرات پر حجاج کرام کا جم غفیر تھا۔ اس موقع پر سیکیورٹی حکام کی طرف سے حجاج کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔ صحت، صفائی، شہری دفاع اور دیگر اداروں کا عملہ بھی حجاج کرام کے ہمراہ تھا۔سعودی عرب کے سیکیورٹی اداروں کے سپاہی اور الکشافہ رضاکاروں کی طرف سے حجاج کرام کی رمی جمرات میں بھرپور مدد اور معاونت کی گئی۔انتظامیہ کی طرف سے رمی جمرات کے لیے حجاج کرام کی آمد ورفت کو آسان بنانے کے لیے داخلی اور خارجی راستے الگ الگ بنائے گئے تھے تاکہ سہولت کے ساتھ اللہ کے مہمان مناسک حج ادا کرسکیں۔

جواب چھوڑیں