کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے پاکستانی فوج کی بڑی سازش؟

ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 200 سے بھی زیادہ افغانی دہشت گرد جو کہ طالبان کے ساتھ مل کر لڑ چکے ہیں، ہندوستان پر حملے کے لئے لائن آف کنٹرول کے قریب لانچ پیڈ پر موجود ہیں۔خفیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 200 سے بھی زیادہ افغانی دہشت گرد جو کہ طالبان کے ساتھ مل کر لڑ چکے ہیں، ہندوستان پر حملے کے لئے لائن آف کنٹرول کے قریب لانچ پیڈ پر موجود ہیں۔ یہی نہیں، ایک رپورٹ کے مطابق، کچھ افغانی دہشت گردوں کی ہندوستان میں دراندازی کی خبر بھی ہے جو دہلی سمیت دیگر بڑے شہروں میں دہشت گردانہ واقعات انجام دے کر کے ماحول بگاڑ سکتے ہیں۔دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد پاکستانی فوج بوکھلا گئی ہے۔خفیہ رپورٹ کے مطابق، 19 اگست کو بہاولپور میں دہشت گرد تنظیموں کی ایک بڑی میٹنگ باقاعدہ بلائی گئی تھی جس کی صدارت مسعود اظہر کا چھوٹا بھائی مولانا رؤف اظہر کر رہا تھا۔ وہ جیش کے مسلح ونگ کا کمانڈر ہے۔رؤف افغانستان کی لڑائی میں بھی سرگرم رہا ہے۔ ایسے میں رؤف اس کوشش میں مصروف ہے کہ زیادہ سے زیادہ افغانی دہشت گردوں کو ہندوستان میں بھیجا جا سکے۔ اس کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ افغانی دہشت گرد باقی دہشت گرد تنظیموں سے زیادہ بہتر تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس میٹنگ میں دراندازی اور دہشت گردانہ حملوں کو لے کر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس میٹنگ کے نتیجہ کو آئی ایس آئی کے پاس منظوری کے لئے بھیجا گیا ہے۔خفیہ اطلاعات میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جموں وکشمیر میں موجود جیش کے دہشت گرد ہتھیار، گولہ بارود اور دہشت گردانہ حملوں کے احکام اور پوری بریفنگ کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہی نہیں انٹلی جنس مواد یہ بھی انکشاف کر رہے ہیں کہ 13 اگست کو پاکستانی فوج کے بڑے آفیسر نے پونچھ سیکٹر کے دوسری طرف راولکوٹ میں دہشت گرد تنظیموں کے کمانڈروں سے بھی ملاقات کی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ جس آفیسر سے یہ ملاقات ہوئی تھی وہ آئی ایس آئی سربراہ ہو سکتا ہے۔ دہشت گردوں کے نشانے پر دہرہ دون میں انڈین ملٹری اکیڈیمی بھی ہے۔

جواب چھوڑیں