جموں وکشمیر کے انڈین یونین میں انضمام کا عمل مکمل

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ آئین کی دفعہ370 کی تنسیخ کے ساتھ ہی جموں وکشمیر کا انڈین یونین میں انضمام کا عمل مکمل ہوگیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزکی بی جے پی حکومت نے دفعہ370 برخواست کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر کو انڈین یونین میں مکمل انضمام سے متعلق ملک کے اولین وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کے خواب کوپورا کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ آج نیشنل پولیس اکیڈیمی شیورام پلی میں70 ویں آئی پی ایس پروبیشنرس بیاچ کی دکشانت پریڈ کے معائنہ اور سلامی لینے کے بعد تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر ریاست کا بھارت میں انضمام نہیں ہوا تھا تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں آرٹیکل370 کو لوک سبھا میں منسوخ کرنے کے بعد یہ ریاست اب ملک کا اٹوٹ حصہ بن چکی ہے ۔ حکومت کے اس اقدام سے سردار پٹیل کے نظریہ کو تقویت حاصل ہوئی ہے ۔ امیت شاہ نے حیدرآباد ریاست کے انڈین یونین میں انضمام کو پولیس ایکشن کا کارنامہ قرار دیا اور کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد سردار پٹیل نے 630 ریاستوں کو انڈین یونین میں شامل کرایا تھا لیکن اس وقت کے حیدرآباد کے حکمراں انڈین یونین میں شامل ہونے تیار نہیں تھے ۔ پولیس ایکشن کے ذریعہ حیدرآبااد کے علاوہ مہاراشٹرا اور کرناٹک کے کچھ حصوں کو شامل کرتے ہوئے ریاست حیدرآباد کا ہندوستان میں انضمام عمل میں لایا گیا ۔ وزیر داخلہ70 ویں بیاچ کے پروبیشنرس کو ان کی ٹریننگ کی تکمیل پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صرف ٹریننگ کی تکمیل سے ان کا مقصد پورا نہیں ہوتا بلکہ ان کی عملی زندگی تو اب شروع ہوتی ہے ۔جس میں انہیں کئی چیالنجس درپیش ہوں گے ۔ دنیا کے اس عظم ملک کے دستور کا تحفظ ، جمہوریت کی بقائ، دہشت گردی کا خاتمہ ، منشیات کے چلن کا تدارک ، سائبر کرائم پر قابو پانا، پڑوسی ملک سے دراندازی کو روکنا جیسے چیالنجس آپ کے سامنے آئیں گے ۔ آپ کو جس ریاست میں بھی پوسٹنگ ہوگی ، وہاں آپ کو اپنی ٹیم کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے ان چیالنجس کا جراتمندی کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا ۔ شاہ نے کہا کہ انہوںنے کل ہی 70 ویں بیاچ کے پروبیشنرس کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔ انہیں پتہ چلا کہ اس بیاچ کے پروبیشنرس کا پس منظر متوسط اور غریب گھرانوں سے ہے ۔ اس کے باوجود آپ نے سخت محنت و جستجو کے ذریعہ آئی پی ایس تک رسائی حاصل کی ۔ آپ کو ملک کے کروڑوں غریبوں کو زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے بھی کام کرنا ہوگا ۔ انہوںنے کہا کہ ملک کے دستور میں عاملہ اور ایگزیکٹیو پر اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ ایک تو منتخب ہونے والے عوامی نمائندے جن پر قانون سازی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ دوسرے قانون کو نافذ کرنے اور سرکاری اسکیمات کو روبہ عمل لانے والے سیول سرویسس کے نمائندگے ہیں جن پر اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں اسمارٹ پولیسنگ کا خواب دیکھا ہے اس نظریہ پر عمل کرتے ہوئے آئی پی ایس عہدیداروں کو آگے بڑھنا ہے ۔ ملک کی معیشت کو 5ٹریلین کے نشانہ تک لیجانے کا جو خواب وزیر اعظم مودی نے دیکھا ہے یہ اُسی وقت ممکن ہے کہ جب ملک میں امن و امان برقرار رہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے جو بھی خواب دیکھا ہے وہ ایک دن میں پورے نہیں ہوتے بلکہ اس کیلئے طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ آپ کو اپنی زندگی میں کئی مواقع آئیں جس میں دستور سے ہٹ کر کام کرنے کی ترغیب دی جائے گی ۔ ایسے مواقع پر انہیں ثابت قدم اور غیر جانبداری اور دستور کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا ۔ اور آئی پی ایس کے اس باوقار پیشہ کا نام بلند رکھنا ہوگا۔ امیت شاہ نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو صرف5سال عوام کی خدمات کا موقع حاصل ہوتا ہے لیکن آئی پی ایس آفیسرس کو 30سال تک عوام خدمت کی انجام دینا پڑتا ہے ۔ وزیر داخلہ نے آئی پی ایس عہدیداروں اور ان کے والدین کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محکمہ پولیس کو اپنے بہادر فرزندوں کو حوالے کیا ہے ۔ توقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور کارناموں سے ملک کا نام روشن کریں گے ۔ تقریب میں ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن ، مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی ، ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی ، مئیر حیدرآباد بی رام موہن، ڈائرکٹر جنرل پولیس ایم مہندر ریڈی، سابق ڈائرکٹر جنرل پولیس انوراگ شرما، سابق ڈائرکٹر پولیس اکیڈیمی ارونا بہوگنا، اعلیٰ عہدیدار، آئی پی ایس پروبیشنرس کے افراد خاندان کی کثیر تعدادنے شرکت کی ۔ ابتداء میں ڈائرکٹر اکیڈیمی ابھئے نے خیر مقدمی تقریر کی اور 70ویں بیاچ کی تکمیل پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ قبل ازیں مرکزی وزیر داخلہ نے پولیس اکیڈیمی کے احاطہ میں سردار پٹیل کے مجسمہ پر پھول مالا پیش کی اور انہیں خراج پیش کیا۔

جواب چھوڑیں