امن مذاکرات کی بحالی کیلئے طالبان کو اپنا رویہ ٹھیک کرنا ہوگا:پومپیو

امریکہ نے افغان طالبان کے ساتھ ازسرنو امن مذاکرات کے لیے نئی اور کڑی شرائط رکھ دیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کابل میں طالبان کے خود کش حملے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امن مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کردیا تھا جس پر طالبان نے بھی جواب میں سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکرات کی منسوخی کا سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان خود امریکہ کو اْٹھانا پڑے گا۔اس پیشرفت کے بعد سے مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں تاہم وزیر خارجہ مائیک پومپیو امریکی نشریاتی ادارہ سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کی بحالی کے لیے پْر امید نظر آئے تاہم اس بار افغان طالبان کے ساتھ دوبارہ امن مذاکرات کو چند اقدامات سے مشروط قرار دے دیا۔وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا کہ امن عامہ کی حالت بہتر ہونے پر ہی امریکہ اپنے فوجی افغانستان سے واپس بلائے گا جس کے لیے امریکی فوجیوں نے اپنی جانیں دی ہیں اور امریکی حکومت نے 17 سال سے اپنے وسائل اور لاکھوں ڈالر لگائے ہیں۔واضح رہے کہ قطر میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے تھے اور فریقین کے درمیان ایک خفیہ ملاقات جنگ زدہ علاقے میں بھی طے تھی کہ کابل میں خود کش دھماکے میں امریکی عہدیدار سمیت 11 افراد ہلاک ہوگئے جس پر صدر ٹرمپ نے طالبان پر اپنی من مانی شرائط مسلط کرنے کے لیے دھماکا کرنے کا الزام لگا کر مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کردیا تھا۔علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان پر اپنے وعدوں پر عمل پیرا ہونے کے لئے دباؤ ڈالتا رہے گا۔ ان کا کہناہے کہ فی الحال امریکہ افغان فورسز کے لئے فوجی مدد کم نہیں کرے گا۔ کل سی این این کو دیئے گئے کو انٹرویو میں مائیک پومپیو نے کہا کہ اگر طالبان ہم سے کیے ہفتوں پہلے کے اپنے وعدوں کی تعمیل نہیں کرتے ہیں۔ افغان صدر پردبائو کم نہیں کرتے تو ہم افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے اپنی مدد جاری رکھیں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کل کہا تھا کہ انہوں نے جمعرات کے روز کابل میں حملے کا اعتراف کرنے کے بعد طالبان قائدین کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کردیئے ہیں۔ٹرمپ نے ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں کہاکہ اگر طالبان امن مذاکرات کے دوران جنگ بندی نہیں کرسکتے ہیں تو بامقصد معاہدہ کے لیے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔امریکی صدر نیکہا کہ انہوں نے میری لینڈ کے کیمپ ڈیوڈ میں واقع ایک صدارتی احاطے میں اتوار کے روز طالبان کے ’’اعلی قائدین‘‘ کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ انہوں نے افغان صدر سے ملنے کا بھی پروگرام بنایا تھا ، لیکن جب اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی تو انہوں نے فوری طور پر بات چیت منسوخ کردی۔جمعرات کے روز کابل کے نواحی علاقہ میں کار بم دھماکہ ہوا جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے تھے۔ اسی علاقے میں امریکی سفارت خانہ ، نیٹو مشن اور دیگر سفارتی مشن قائم ہیں۔مریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے مطابق افغان طالبان کے ساتھ دوبارہ امن مذاکرات کا آغاز ممکن ہے لیکن اس کے لیے طالبان کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ امریکی نشریاتی ادارہ سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ حالات بہتر ہونے کی صورت میں ہی اپنے فوجی افغانستان سے نکالے گا۔ ہفتے کی شب امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اعلان کیا تھاکہ امریکہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ختم کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ چند روز پہلے کابل میں ہونے والا وہ حملہ بتایا، جس میں ایک امریکی فوجی سمیت بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جواب چھوڑیں