بجٹ غیر حقیقت پسندانہ‘ انتخابی وعدوں کا کوئی تذکرہ نہیں:بھٹی وکرامارکہ

قائد سی ایل پی بھٹی وکرامارکہ نے ریاستی اسمبلی میں چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کی جانب سے پیش کردہ موازنہ کو غیر حقیقت مندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس موازنہ میں عوام سے کئے گئے انتخابی وعدوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بے گھر افراد کو ڈبل بیڈروم کی فراہمی‘ بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3016روپے بیروزگاری الائونس‘ دلتوں کو فی کس تین ایکر اراضی کی فراہمی‘ بیروزگار نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی اور کسانوں کے قرض معافی اسکیم کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ بھٹی وکرامارکہ آج یہاں اسمبلی میڈیا ہال میں ریاستی بجٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے مالیاتی سال 2019-20کے علی الحساب موازنہ میں 1,82,017کروڑ روپئے کا مجموعی بجٹ پیش کیا تھا۔ اب جبکہ مکمل بجٹ پیش کیا گیا ہے اس میں اضافہ کے بجائے 20%کی کمی کرتے ہوئے 1,46,492,30کروڑ روپیہ کا بجٹ پیش کیا گیا اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گذشتہ 18ماہ سے ملک میں معاشی سست روی جاری ہے اور مجموعی گھریلو پیداوار میں کافی گراوٹ آئی ہے جس کا اثر ریاست کی معاشی صورتحال پر بھی پڑا ہے۔ بھٹی وکرامارکہ نے کہا کہ دراصل تلنگانہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ریاست میں مالی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ گذشتہ 5سال سے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے علحٰدہ ریاست کے قیام کے بعد ترقی کے بلند وبانگ دعوے کئے تھے۔ اس کے برعکس ریاست قرض کے بوجھ تلے آگئی۔ فلاحی اسکیمات کیلئے حکومت کے پاس فنڈ نہیں ہے۔ تمام اسکیمات کو زیر التواء رکھا گیا۔ عوام کو گھر گھر پانی کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ گوداوری سے حیدرآباد کو پانی لانے کانگریس حکومت کے شروع کردہ پراجکٹ پرانہیتا چیوڑلہ کے ڈیزائن میں تبدیل کرتے ہوئے اس کی لاگت کو 40ہزار کروڑ سے بڑھا کر 80ہزار کروڑ روپئے کردیا گیا۔ کانگریس حکومت نے جتنے بھی آبپاشی پراجکٹ کے سنگ بنیاد رکھے تھے یا تو ان کے نام بدل دئیے گئے یا پھر اپنے نام سے ان پراجکٹ کو موسوم کیا گیا۔ اب جبکہ خزانہ خالی ہوچکا ہے چیف منسٹر کے سی آر‘ حیدرآباد کی قیمتی سرکاری اراضیات کو فروخت کرکے آبپاشی کی تعمیر پر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ قائد سی ایل پی نے کہا کہ حیدرآباد کی سرکاری اراضیات حیدرآباد کے عوام کا اثاثہ ہیں۔ حکومت کا سرکاری اراضیات کا تحفظ کرنے کی بجائے انہیں فروخت کرنے کی منصوبہ سازی کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ میاں پور اراضی اسکام کے افشاء کے بعد حکومت نے فروخت کردہ اراضیات کی رجسٹری کو منسوخ کردیا ہے چنانچہ یہ اراضیات غریب عوام کو ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کیلئے فراہم کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس‘ اسمبلی اجلاس کے بعد حیدرآباد کے سلم علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بے گھر افراد سے درخواستیں حاصل کرکے انہیں میاں پور کی اراضی پر ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کیلئے حکومت سے نمائندگی کرے گی بصورت دیگر بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں ارکان اسمبلی سدھیر بابو‘ سیتا اکا‘ ویریا اور سابق ایم ایل اے رام موہن ریڈی نے کہا کہ سالانہ بجٹ میں عام آدمی کیلئے کچھ نہیں ہے۔ ریاستی خزانہ خالی ہوچکا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر کو مرکز کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے سواء کوئی راستہ نہیں جبکہ مرکزی حکومت بھی معاشی مندی سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی حکومت کی ناکامیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف بڑے پیمانہ پر احتجاج بلند کرے گی۔

جواب چھوڑیں