تبریز لنچنگ کیس‘ 11 ملزمین کیخلاف قتل کے الزامات حذف

جھارکھنڈ کے ضلع خرسوان میں ایک 24سالہ نوجوان تبریز انصاری پر زائد از دوماہ قبل ‘سرقہ کے الزام پر وحشیانہ حملہ (لنچنگ حملہ ) کیا گیا تھا اور اِس نوجوان کو ’’ جئے شری رام‘‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا تھا۔ تبریز نے‘ جو سرقہ کے الزام کے تحت عدالتی تحویل میں تھا‘ گذشتہ 22جون کو خرابی صحت کی شکایت کی۔ مذکورہ حملہ کے 5دن بعد اُس کی مزاج بگڑ گئی ۔ اُس کو فوری صدر اسپتال لے جایا گیا اور پھر جمشید پور کے ٹاٹا مین اسپتال کو لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تبریز کو مردہ قراردیا۔تاہم پولیس نے چارج شیٹ گذشتہ 29جولائی کو پیش کیا۔ اِس چارج شیٹ میں سے ‘ تبریز کے مبینہ حملہ آوروں کیخلاف قتل کے الزامات کو حذف کردیا گیا ہے۔اخباردی کوینٹ نے یہ اطلاع دی۔ مذکورہ اطلاع میں کہا گیا ہے کہ 11ملزمین پر قانون تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کئے گئے تھے۔ مذکورہ چارج شیٹ سے قتل کے (الزامات حذف کئے جانے پر) تبریز کی اہلیہ شائستہ کو صدمہ ہوا ہے ۔ تبریز نے اپنی موت سے صرف دوماہ قبل شائستہ سے شادی کی تھی۔ شائستہ کے وکیل الطاف حسین نے پولیس تحقیقات کیخلاف ایک احتجاجی درخواست عدالت میں داخل کی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ چارج شیٹ سے قتل کے الزامات کس سبب حذف کئے گئے ‘ الطاف حسین نے بتایاکہ ’’ ہم یہ اطلاعات سن رہے ہیں کہ قلب پر اچانک حملہ کے سبب تبریز کی موت ہوئی۔ تاہم اُس کے سر پر ایک بڑا زخم تھا ۔مارپیٹ کے سبب اُس کی کھوپڑی میں شگاف آیا تھا۔ اب وہ ( پولیس عملہ) کیسے کہہ سکتا ہے کہ تبریز کی موت محض قلب پر حملہ کے سبب ہوئی؟‘‘۔ تاہم مذکورہ کیس کے تحقیقاتی عہدیدار آر نارائن نے کہاکہ قلب پر اچانک حملہ کے سبب موت ہوئی تھی۔ نارائن نے بتایاکہ ’’ ہم نے دوہری رائے یعنی دو ڈاکٹروں سے رائے حاصل کی جنہوںنے قلب پر حملہ کی توثیق کی‘‘۔ نارائن نے بتایاکہ چونکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کا سبب‘ قلب پر حملہ بتایاگیا ہے‘ ملزمین پر قتل کا الزام عائد نہیں کیاجاسکتا۔ اِس تعلق سے الطاف نے کہاوہ سمجھتے ہیں کہ پولیس ’’ ملزمین کو بچانے کی ‘‘ کوشش کررہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی سرپر آئے زخم کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ پولیس کو چارج شیٹ میں یہ الزام شامل کرنا چاہئے تھا اور ایسا کیا جاسکتا تھا۔ الطاف نے بتایاکہ ’’ اگر جج صاحبان‘ قتل کا الزام شامل کرنے کی ہماری احتجاجی درخواست قبول نہیں کرتے تو ہم ہائیکورٹ سے رجوع ہوں گے ۔ اِس کیس کے ملزمین پر قتل کے الزام کے تحت مقدمہ چلایاجانا چاہئے‘‘۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ ڈپٹی کمشنر سرائے کلاں۔ خرسوان انجنیلو دوڈے کی زیر قیادت ایک سہ رکنی ٹیم ‘ تبریز کی موت کی وجہ کی تحقیقات کرنے کیلئے تشکیل دی گئی تھی۔ اِس ٹیم نے پولیس اور ڈاکٹروں یعنی دونوں کو تبریز کی موت کیلئے ذمہ دار ٹہرایا۔

جواب چھوڑیں