جنوبی ہند میں دہشت گردانہ حملہ کا اندیشہ، انٹلیجنس رپورٹ

ایک اعلیٰ ترین آرمی کمانڈر نے آج بتایا کہ آرمی کو یہ خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ہندوستان کے جنوبی حصہ میں دہشت گردانہ حملہ کیا جاسکتا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل ایس کے سائنی جی او سی۔ سی آرمی سدرن کمانڈ نے پونے کے قریب ایک پروگرام کے موقع پر اخباری نمائندوں کو بتایا کہ سرکریک ایریا میں بعض کشتیاں دستیاب ہوئی ہیں جن کو وہاں چھوڑ دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا ’’ہمیں کئی خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ ہندوستان کے جنوبی حصہ اور جزیرہ نما ہندوستان میں دہشت گردانہ حملہ کیا جاسکتا ہے‘‘ انہوں نے کہا کہ بڑھے ہوئے خطرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے آرمی کی جانب سے سرکریک علاقہ میں اقدامات کئے گئے ہیں۔ کیرالا پولیس کے سربراہ لوک ناتھ بہارا نے اسی دوران تمام ڈسٹرکٹ پولیس سربراہوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ساری ریاست میں سخت ترین چوکسی برقرار رکھیں۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس کی جانب سے پولیس کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ بس اسٹانڈس ، ریلوے اسٹیشنوں، طیرانگاہوں اور ان مقامات پر جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں سخت ترین چوکسی برقرار رکھے۔ ایک پولیس پریس نوٹ میں بتایا گیا ’’تمام مقامات پر جہاں اونم منانے کے لئے عوام کی کثیر تعداد جمع ہوتی ہے حفاظتی انتظامات کو سخت کردیا گیا ہے‘‘ وزارت دفاع کے ترجمان نے چینائی میں بتایا کہ آرمی کے سدرن کمانڈ کے شمال بعید پوائنٹ میں گجرات کے بعض حصے بھی شامل ہیں۔ جی او سی کے سدرن کمانڈ سے نکلے ہوئے لفظ جنوب سے مراد ٹاملناڈو، کیرالا، آندھراپردیش اور کرناٹک ہی نہیں ہیں اس میں مکمل جنوبی جزیرۂ نما اور گجرات کے حصہ بھی شامل ہیں۔ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ جنوبی ہند میں امکانی دہشت گردانہ حملہ کے خطرات کے پیش نظر آندھراپردیش میں 974 کیلو میٹر طویل ساحلی پٹی پر سکیورٹی میں سختی پیدا کردی گئی ہے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس لاء اینڈآرڈر روی شنکر ایانار نے پی ٹی آئی کو بتایا ’’ریاست کی اہم ترین تنصیبات پر بھی سکیورٹی کو بڑھادیا گیا ہے اور اے پی اسپیشل پروٹکشن فورس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے‘‘ انہوں نے وضاحت کی ’’ہمارا کنٹرول روم ہفتہ میں 7 دن ، 24 گھنٹہ ساحلی پولیس اسٹیشنوں کے ساتھ ہی ساتھ اہم ترین تنصیبات پر متعین اسپیشل پروٹیکشن فورس کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے اور صورت حال پر گہری نظر رکھی جارہی ہے‘‘ بالخصوص تروملا میں جہاں پر لارڈ واینکٹشورا مندر ہے اور سری ہری کوٹہ میں واقع ستیش دھون اسپیس سنٹر پر حفاظتی انتظامات میں سختی پیدا کردی گئی ہے۔ ٹاملناڈو میں ایک سینئر پولیس آفیسر نے بتایا کہ گذشتہ ماہ سے ریاست میں سخت ترین چوکسی برقرار رکھی جارہی ہے کیونکہ خفیہ اطلاعات میں اس بات کا اشارہ دیا گیا تھا کہ مشتبہ دہشت گرد ریاست میں داخل ہورہے ہیں انہوں نے کہا کہ ساری ریاست میں اور بالخصوص کوئمبتور جیسے شہروں میں چوکسی کو بڑھادیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں