مخالف سکھ فسادات‘ کمل ناتھ کیخلاف مقدمات کو دوبارہ کھولنے کی منظوری

 مرکزی وزارت داخلہ نے چیف منسٹر مدھیہ پردیش کمل ناتھ کیخلاف 1984 کے مخالف سکھ فسادات کے مقدمات کے دوبارہ کھولنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ دہلی کے شرومنی اکالی دل رکن اسمبلی منجیندرسنگھ سرسا نے آج یہ بات بتائی۔ اُنہوںنے ایک ٹوئیٹ میں کہاکہ ’’ اکالی دل کیلئے یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم( ایس آئی ٹی) نے ‘ 1984 میں سکھوں کی نسل کشی میں مبینہ طورپر کمل ناتھ کے ملوث ہونے پر اُن کیخلاف مقدمہ کھول دیا۔ سال گذشتہ میں نے جو درخواست دی تھی‘ اُس پر مرکزی وزارت داخلہ نے اعلامیہ جاری کردیا ہے کہ کیس نمبر:601/84 کو دوبارہ کھولا جائے اور کمل ناتھ کیخلاف تازہ ثبوت و شواہد پر غور کیاجائے ‘‘۔ سرسا نے ‘ جو دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر ہیں‘ کہا کہ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم‘ کمل ناتھ کیخلاف الزامات کی تحقیقات کررہی ہے۔ ’’ مذکورہ کیس کو دوبارہ کھولنے پر میں‘ ایس آئی ٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جو لوگ سکھوں کی ہلاکت میں کمل ناتھ کے ملوث ہونے کے عینی شاہد ہیں‘ میں اُن سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ سامنے آئیں اور گواہی دیں۔ خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ سرسا نے کانگریس پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ 1984 کے فسادات میں سکھ فرقہ کو نشانہ بنانے میں مبینہ طورپر کمل ناتھ کے ملوث ہونے کے باوجود کانگریس نے ان کی چیف منسٹری کو برقراررکھا ہے۔ سرسا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی پر زوردیا کہ وہ کمل ناتھ کا استعفیٰ طلب کریں تاکہ سکھوں کو انصاف ملے۔ 1984 کے فسادات دہلی میں ‘ گردوارہ رکاب گنج کے قریب ہوئے تھے۔

جواب چھوڑیں