کشمیر میں حالات معمول پر لائیں:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے آج مرکز اور جموں و کشمیر نظم و نسق سے کہا ہے کہ وہ وادیٔ کشمیر میں جلدازجلد ممکنہ طور پر حالات کو معمول کے مطابق لانے تمام کوششیں کریں لیکن یہ واضح بھی کیا کہ معمول کے حالات کی بحالی قومی مفاد کو ذہن میں رکھتے ہوئے منتخبہ بنیاد پر ہوگی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت میں اور جسٹس ایس اے بوبڈے اور ایس اے نذیر پر مشتمل بنچ کو اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے ریاست میں حالات کو معمول کے مطابق بحال کرنے کے لئے ارباب مجاز کے اقدامات سے واقف کروایا۔ عدالت عظمیٰ نے وینوگوپال سے کہا کہ وہ ایک حلفنامہ داخل کریں جس میں معاملہ پر اب تک اُٹھائے گئے اقدامات کا ذکر ہو۔ جب عدالت کو وادیٔ کشمیر میں موبائیل اور انٹرنیٹ سرویسس بند کردیئے جانے کے بارے میں بتایا گیا تو بنچ نے کہا ان مسائل سے جموں و کشمیر ہائیکورٹ کی جانب سے نمٹا جاسکتا ہے۔ اس نے کہا کیا ابھی بھی مماثل صورتحال ہے۔ اگر ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ مقامی مسئلہ ہے تب بہتر ہوگا کہ اس سے ہائیکورٹ نمٹے۔ ہائیکورٹ کے لئے یہ جاننا آسان ہوگا کہ موبائیل اور انٹرنیٹ سرویسس بند ہوجانے کی بابت ریاست میں کیا ہورہا ہے۔ درخواست گذار اور کشمیر ٹائمز کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر انورادھا بھسین کی جانب سے پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ ورند اگروور نے بنچ کو بتایا کہ وادیٔ کشمیر میں موبائیل اور انٹرنیٹ خدمات اور پبلک ٹرانسپورٹ کام نہیں کررہے ہیں اور ان کے لئے ہائیکورٹ تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ بھسین نے کہا کہ دفعہ 370 کی برخواستگی کے بعد ریاست میں ورکنگ جرنلسٹس پر عائد کردہ پابندیوں کو ہٹانا چاہیے۔ چند دیگر درخواست گذاروں نے پبلک ٹرانسپورٹ کے بند ہوجانے اور طبی سہولتوں کے فقدان کے مسائل اُٹھائے۔ تاہم وینوگوپال نے کہا کہ درخواست گذار کی جانب سے اُٹھائے گئے مسائل درست نہیں لگتے کیونکہ کشمیر میں اخبارات شائع ہورہے ہیں اور حکومت انہیں ہر قسم کی مدد پیش کررہی ہے۔ یہ صرف ایک یا دو اخبارات کے لئے نہیں ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ عام مواصلات بند ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ آیا یہ بریک ڈائون یا شٹ ڈائون ہے اور یہ کہ یہ کن وجوہات کے لئے ہیں۔ بنچ نے یہ بات بتائی۔ وینوگوپال نے بنچ کو بتایا کہ سری نگر میں ایک میڈیا سنٹر قائم کیا گیا ہے جہاں صحافیوں کے لئے 8:00 بجے صبح تا 11:00 بجے شب انٹرنیٹ اور فون سہولتیں فراہم کی جارہی ہے۔ صحافیوں کو اپنا کام انجام دینے کے لئے نقل و حرکت کے پاسس اور گاڑیاں بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *