ذاکر نائک کو مفرور معاشی مجرم قراردینے کی تیاری

انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ(ای ڈی) اسلامی مبلغ ذاکر نائک کے خلاف مفرور معاشی مجرمین قانون (ایف ای او اے) کا استعمال کرے گا جو فی الحال ملایشیا میں ہیں۔ ای ڈی کے اعلیٰ سطحی ذرائع نے بتایا کہ ہم منی لانڈرنگ کیس میں جو ہماری زیرتحقیق ہے‘ ذاکر نائک کے خلاف ایف ای او اے قانون کے اطلاق پر غور کررہے ہیں۔ ای ڈی نے 2016 میں نائک کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی تھی جو انسداد غیرقانونی سرگرمیاں قانون (یو اے پی اے) کے تحت قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کی جانب سے درج کرائی تھی۔ متنازعہ مبلغ ‘ منی لانڈرنگ او ر نفرت پر مبنی تقاریر کے ذریعہ انتہاپسندی کو فروغ دینے کے الزام میں حکام کو مطلوب ہیں۔ چہارشنبہ کے روز ممبئی کی ایک انسداد ِ منی لانڈرنگ خصوصی عدالت نے نائک کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا تھا۔ ای ڈی کے عہدیداروں کے مطابق ایف ای او اے کے تحت اگر کسی شخص کے خلاف وارنٹ جاری کیا جائے جو فوجداری کارروائی سے بچنے ملک چھوڑچکا ہو اور ہندوستان واپس ہونے سے انکار کرتا ہو تو اسے فوجداری قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مفرور معاشی مجرم قراردیئے جانے کے بعد تحقیقاتی ایجنسی کو یہ اختیار حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ بقایاجات کی وصولی کے لئے اس کے تمام اثاثے اور جائیدادیں ضبط کرلے۔ مفرور شراب کے تاجر وجئے مالیا کو جاریہ سال جنوری میں ای ڈی کی جانب سے مفرور معاشی مجرم قراردیا گیا تھا۔ سابق کنگ فشر ایرلائنز کے صدرنشین اس قانون کے تحت مجرم قراردیئے جانے والے پہلے شخص تھے۔ ای ڈی نے ہیروں کے مفرور تاجر نیرؤ مودی اور ان کے ماموں گیتانجلی گروپ کے میہول چوکسی کے خلاف بھی ایف ای او اے قانون کا استعمال کرنے عدالت میں درخواست داخل کی ہے۔ واضح رہے کہ نیرؤ مودی اور چوکسی 13500 کروڑ روپے مالیتی پنجاب نیشنل بینک(پی این بی) فراڈ کیس میں ملوث ہیں۔ ذاکر نائک پر نفرت انگیز تقاریر کرنے کا الزام ہے۔ ان کا نام جولائی 2016 میں ڈھاکہ بم دھماکوں کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا تھا۔ ایک بم بردار نے اعتراف کیا تھا کہ وہ نائک کے پیامات سے متاثر ہوا تھا۔ اس واقعہ کے بعد نائک نے ہندوستان چھوڑدیا تھا۔ نائک ’’پیس ٹی وی‘‘ کے ذریعہ تبلیغ کیا کرتے تھے جسے اب ممنوع قراردیا جاچکا ہے۔ وہ گذشتہ 3 سال سے ملایشیا میں مقیم ہیںتاکہ ہندوستانی قانون سے بچ سکیں۔ بنگلہ دیش میں 2016 میں دہشت گردانہ حملہ کے پیش نظر ان کے خلاف کئی کیس درج کئے گئے تھے۔ برطانیہ اور کینیڈا نے انہیں ویزا دینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد انہیں ملایشیا میں مستقل سکونت عطا کردی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *