آلیر میں ڈیالائسس سنٹر کے قیام کی جی سنیتا کی جذباتی اپیل

\حکمراں جماعت ٹی آر ایس کی خاتون رکن گونگڑی ( جی) سنیتا نے آج اسمبلی میں بلند آواز میں حکومت سے جذباتی اپیل کی کہ ان کے حلقہ اسمبلی آلیر میں ڈیالائسس یونٹ قائم کیا جائے ۔ ایوان میں وقفہ صفر کے دوران اپنے اس مطالبہ کو دہراتے ہوئے جی سنیتا نے حلقہ کے ایک نوجوان جو گردوں کے عارضہ کا شکار ہے ، کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے آنسو ضبط نہ کرسکیں اور پر زور آواز میں کہا کہ ان کے حلقہ کے ایک بھی سرکاری دواخانے میں ڈیالائسس سنٹر نہیں ہے جس کے سبب اب تک دو افراد کو مشکلات کا سامنا کرناپڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے حلقہ آلیر کا ایک24سالہ نوجوان کو جوا پنی ماں کے ساتھ رہتا ہے ، ہفتہ میں دوبار ڈیالائسس کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ ، ڈیالائسس کرانے کیلئے حیدرآباد آتا ہے ۔ اُس نوجوان نے مجھے پیام روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھاری اخراجات کے سبب وہ حیدرآباد میں ڈیالائسس کرانے سے قاصر ہے ۔ انہوں نے ایک 15سالہ لڑکے کا بھی تذکرہ کیا جو ذیابیطس کا شکار تھا ۔ اسے کچھ دنوں تک ڈیالائسس کرانے کی ضرورت تھی اُس نے چند دن ڈیالائسس کرایا مگر وہ بچ نہیں سکا۔ وقفہ صفر کے دوران ٹی آر ایس اور اس کی فرینڈ لی پارٹی کے تقریباً46 ارکان نے اس بحث میں حصہ لیا ۔ ان میں بیشتر ارکان نے صحت عامہ اور تعلیمات محکموں سے حکومت کی غفلت ، تساہل کو آشکار کیا ۔ ان ارکان نے شکایت کی عوام کی بڑی تعداد ذیابیطس اور دیگر جان لیوا امراض کا شکار ہورہی ہے ۔ شکایت کے باوجود ان کے حلقہ جات میں ڈیالائسس سنٹرس قائم نہیں کئے گئے ۔ ان کے حلقوں میں موجود بستی دو اخانوں میں نہ تو ڈاکٹرس ہیں اور نہ ہی آلات اور دوائیں ہیں۔ ٹی آر ایس کے خیریت آباد کے رکن اسمبلی ڈی ناگیندر نے کہا کہ وہ اپنے حلقہ میں ایک بستی دواخانہ کے افتتاح کیلئے پہنچے مگر افتتاح کے بغیر وہ، واپس لوٹ گئے کیونکہ بستی دواخانہ میں نہ تو ڈاکٹرس تھے اور نہ ہی طبی سہولتیں دستیاب تھیں۔ ہر حلقہ میں یہی صورتحال ہے ۔ کئی ارکان نے سرکاری اسکولوں سے حکومت کی عدم توجہ کی شکایت کی اور الزام عائد کیا کہ حکومت، سرکاری مدارس پر توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ ان میں چند ارکان نے اس بات کی شکایت کی کہ ان کے حلقوں میں سرکاری اسکولس میں اساتذہ نہیں ہیں اور چند نے اس بات کی شکایت کی ان کے حلقوں کے بیشتر سرکاری مدارس میں پینے کے پانی کا نظم نہیں ہے ۔ بیت الخلاء نہیں ہیں۔ فرنیچر کے نام پر چند ٹوٹی پھوٹی کرسیاں پائی گئیں۔ دریں اثنا اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ آلودہ پانی کے استعمال سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ عوام کو پینے کا صاف پانی سربراہ کرے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *