وزیر داخلہ محمود علی نے اپنی قبر کیلئے جگہ کا انتخاب کرلیا

وزیر داخلہ محمد محمود علی ملک کے واحد سیاستداں ہیں‘ جنہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنی قبر کی جگہ محفوظ کروائی ہے۔ اپنی قبر کا انتخاب مسجد چونٹی شاہ کٹل گوڑہ نزد اعظم پورہ میں کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس مسجد میں ان کی شریک حیات کے لئے بھی قبر کی جگہ محفوظ کروائی ہے۔ ان کی قبر کی جگہ ان کے والد حاجی پیر محمد مرحوم عرف بابو میاں اور والدہ سعید النساء بیگم کے قریب میں واقع ہے۔ زیادہ تر لوگ دنیا میں دولت کمانے جائیدادوں‘ بلڈنگس میں اضافہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں تاہم وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اس برخلاف اپنی زندگی میں ہی آخری قیامگاہ (قبر) کی جگہ محفوظ کروائی۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اس موقع پر اخباری نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ درگاہ یوسفینؒ کے سجادہ نشین اور حضرت میراں حسینیؒ کے سجادہ نشین نے درگاہ کے قبرستان کے احاطہ میں ان کے لئے اراضی فراہم کرنے سے متعلق نمائندگی کی تھی۔ جب اس سلسلہ میں علمائے دین سے رجوع ہوئے تھے تو انہوں نے ان کے والد اور والدہ کے قبروں کے پاس جگہ کا انتخاب کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس سلسلہ میں صدر مسجد چیونٹی شاہ ؒ سید زین العابدین سے اجازت حاصل کی گئی۔ اس مسجد میں حضرت سید لال مغل عرف چیونٹی شاہ ؒ کی درگاہ ہے۔ درگاہ کے داہنے ان کے والدین کی قبریں ہیں۔ درگاہ کی بائیں جانب انتظامیہ مسجد کی جانب سے وزیر داخلہ محمد محمود علی اور ان کی شریک حیات کو قبر کی جگہ فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ زندگی میں ہمیشہ غریب عوام کے مسائل حل کئے۔ انہوں نے کہا کہ امیر لوگ اپنے اثرو رسوخ اور دولت کے ذریعہ ان کے مسائل حل کروالیتے ہیں‘ جبکہ غریب لوگوں کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو ہمیشہ اپنی موت کو یاد رکھنا چاہئے۔ اس سے وہ گناہ کرنے اور برے کام کرنے سے خوف کھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ دفتر کے عملے کو ہدایت دے رکھی ہے کہ اگر کوئی غریب آئے تو فوری اس شخص کو ان سے ملاقات کرانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چند یوم قبل کھمم کے میاں بیوی جو غیر قوم کے تھے‘ ان سے ان کے گھر پہونچکر ملاقات کی۔ یہ جوڑا بس اسٹیشن پر رات کو پہنچا‘ چوروں نے ان کے کپڑے اور دیگر اشیاء چرالئے تھے‘ انہوں نے ایک مسلمان آٹو ڈرائیور سے انہیں کسی ریاستی وزیر سے ملاقات کرانے کی گذارش کی تھی۔ آٹو ڈرائیور نے ان کے گھر کے پاس میاں بیوی کو چھوڑکر چلا گیا۔ ان میاں بیوی نے ضلع کھمم میں اراضی کے مسئلہ کے بارے میں انہیں واقف کروایا۔ انہوں نے فوری ضلع کلکٹر کو فون کرکے ان کا مسئلہ حل کروا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مرنے کے بعد ایک ایک پائی کا حساب لے گا ہم کو جتنا ہوسکے دنیا میں نیکیاں کماکر آخرت کو سنوارلینا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *