آرٹی سی کومکمل خانگیانے کاقطعی ارادہ نہیں : کے سی آر

چیف منسٹرکے چندرشیکھررائو نے پیرکو کہاکہ ان کی حکومت کاتلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کومکمل طورپرخانگیانے کا قطعی ارادہ نہیں ہے ۔ پرگتی بھون میں آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے تیسرے دن کے حالات کاجائزہ لینے کے لئے منعقدہ اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت کا مقصدآرٹی سی کے وجود کو بہر صورت برقرار رکھناہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ عوام کوکسی بھی طرح کی پریشانی نہ ہو اور اس مقصدکے تحت آرٹی سی کومضبوط ومستحکم بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوںنے مزید کہاکہ آرٹی سی کومکمل طورپر خانگیانا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ محکمہ میں نظم وضبط کی برقراری کویقینی بناتے ہوئے آرٹی سی کو نفع بخش ادارہ میں تبدیل کیا جائے گا ۔ آج منعقدہ اجلاس میں پرنسپل سکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ سنیل شرماکی قیادت میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی جانب سے آرٹی سی کے متعلق تیار کردہ تجاویز پرمبنی رپورٹ چیف منسٹر کے چندر شیکھررائو کے حوالہ کی گئی جن پرتفصیلی طورپر غوروخوض کیاگیا۔اس اجلاس میں ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پواڈا اجئے کمار‘ ریاستی وزیر عمارات وشوارع ویمولاپرشانت ریڈی ‘ خصوصی مشیرحکومت تلنگانہ ڈاکٹر راجیوشرما‘ چیف سکریٹری ایس کے جوشی ‘اسپیشل چیف سکریٹری سومیش کمار‘پرنسپل سکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ سنیل شرما ‘ ڈی جی پی ایم مہندر ریڈی‘پرنسپل سکریٹری سی ایم او نرسنگ رائو‘ کمشنرمحکمہ ٹرانسپورٹ سندیپ کمار سلطانیہ‘ ایڈیشنل ڈی جی پی جتیندر ‘محکمہ آرٹی سی اور ٹرانسپورٹ کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی ۔چیف منسٹرنے بتایاکہ موجودہ طورپرآرٹی سی کے پاس 10,400 بسیں موجود ہیں اورمستقبل میں اس ادارہ کو تین حصوںمیں تقسیم کرتے ہوئے چلایا جائے گا۔ 50 فیصد بسیں (5200)مکمل طورپرآرٹی سی کی رہیں گی۔30فیصد(3100) بسوں کوکرایہ پرحاصل کرتے ہوئے آرٹی سی کی جانب سے چلایا جائے گا ۔ماباقی 20 فیصد (2100) بسس کومکمل طورپر خانگی پرائیوٹ اسٹیج کیا رئیرکے طورپر چلایا جائے گا۔ ان تمام سرویسس کو ریاست بھر کے مختلف روٹس کے علاوہ شہروںمیںبھی چلایا جائے گا۔آرٹی سی بسوںاورخانگی بسوں کا کرایہ یکساں رہے گا ۔تمام خدمات کوآرٹی سی کے کنٹرول میں ہی رکھا جائے گا۔ خانگی آپریٹرس کے کرایہ میں اسی وقت اضافہ ہوگا جب آرٹی سی کی جانب سے کرایہ میں اضافہ کا فیصلہ کیا جائے گا کرایہ میں اضافہ کے لئے آر ٹی سی کمیٹی کے فیصلہ پر انحصار کرنا پڑیگا ۔ کے سی آر نے کہاکہ موجودہ طورپر آرٹی سی کی جانب سے 21فیصدبسیں کرایہ پرحاصل کرتے ہوئے چلائی جارہی ہیں جس کا مطلب ہے کہ اب صرف 9فیصدبسوں کوہی کرایہ پرحاصل کیاجانا ہے ۔ مزید کرایہ پر بسیں حاصل کرنا آرٹی سی کے لئے نئی بسیں حاصل کرنے کے مترادف ہوگا۔چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے آرٹی سی ایمپلائزیونینوںکا رویہ نامناسب ہے ۔ ان یونینوںنے اپنے ہاتھوںلگائے درخت کواپنے ہی ہاتھوں سے کاٹ دیا ہے ۔ تلگودیشم اورکانگریس دورمیں احتجاج کرنے والی ان یونینوں نے ٹی آرایس دور حکومت میں بھی احتجاج کاراستہ اختیار کرلیاہے ۔ گزشتہ 40سالوں کے دوران اختیار کردہ غلط رویہ کواب بھی برقرار رکھاگیا ۔ حکومت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات کے باوجود ایمپلائز یونینوںکے رویہ میں تبدیلی نہیں آئی ۔ ان یونینوں نے ہمیشہ انتظامیہ کو سخت فیصلہ لینے سے بازرکھا۔ان تمام حقائق کے باوجود حکومت کاواحدمقصدعوام کوپریشانیوںسے محفوظ رکھنا ‘تہواروں کے وقت عوام کی آمد ورفت ‘امتحانات کے وقت طلباء کوبہتر خدمات کی فراہمی ہے ۔ حکومت کی صاف نیت کے باوجود ملازمین کی جانب سے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کے اعلان کومضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کے چندرشیکھررائو نے کہا حکومت اورآرٹی سی انتظامیہ کی نظر میں ملازمین کی جملہ تعداد صرف 1200ہے ۔ ماباقی ملازمین کوبرطرف کرنے کی ضرورت حکومت کو نہیںہے ۔حکومت کی جانب سے کسی کو برطرف نہیں کیاگیا وہ افراد ازخود ترک ملازمت کرچکے ہیںچونکہ حکومت کی دی گئی مہلت پران ملازمین نے خدمات سے رجوع نہیں کیا انہوںنے اپنی مرضی سے ترک ملازمت کی ہے۔ حکومت اورآرٹی سی کے عہدیداروں کی اپیل کوملازمین نے نظراندازکردیا ۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ترک ملازمت کرچکے افراد کی جانب سے بس ڈپوزاوربس اسٹیشنوں پر گڑبڑ کرنے کے امکان کے پیش نظر حالات کوقابو میں رکھنے پولیس کاوسیع تربندوبست کیاگیا ہے ۔ ڈی جی پی کوہدایت دی گئی ہے کہ 1200ملازمین کوخدمات کی ادائیگی میں خلل ڈالنے اورغلط برتاو کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کریں۔چیف منسٹر نے واضح کیاکہ طلباء معذورین ‘مجاہدین آزادی ‘ صحافی برادری کودیئے گئے رعایتی بس پاسس کا چلن بدستورجاری رہے گا۔ پاس کی اجرائی اور تجدید کے تمام امور آرٹی سی کے پاس برقرار رہیں گے۔تمام سبسیڈی ‘حکومت بر داشت کرے گی۔سبسیڈی کے لئے درکار رقومات بجٹ میں مختص کردیئے جائیں گے ۔ چیف منسٹرنے کہاکہ آج جائزہ اجلاس کے تمام شرکاء کابہ اتفاق نظریہ ہے کہ غرور وتکبر پر مبنی ہڑتال کافیصلہ یونین کی اجارہ داری برقرار رکھنے کاحربہ ہے ۔ اپنی مرضی کے مطابق احتجاج کرنا غرور وتکبرکی عکاسی کرتا ہے ۔ حکومت کااحساس ہے کہ سرکاری اداروںمیں ہرکام حکومت کی مرضی سے ہوناچاہئے ۔ جب کوئی ہدایات کونظراندازکرتے ہوئے خدمات پررجوع ہونے سے انکار کرتا ہے تو یونین کاوجودبے معنی ہوجاتاہے ۔ اس لئے حکومت کی نظرمیں یونین کاوجوداب ختم ہوگیا ہے ۔ اب مستقبل میں آرٹی سی میں یونینوں کا چلن نہیںرہے گا۔ حکومت چاہتی ہے کہ مستقبل میں آرٹی سی سے وابستہ ہونے والے ملازمین کوادارہ کونفع بخش بناتے ہوئے بونس فراہم کیا جائے ۔ ادارہ ہمیشہ نفع بخش رہے‘ کبھی خسارے کا شکارنہ ہو۔ادارے کی ترقی ہو ‘ترقی کانیاسورج طلوع ہو‘اس شعبہ میں جہاں روزانہ مسابقت میں اضافہ ہورہا ہے‘ آرٹی سی سب سے آگے رہے ۔ ہمیشہ عوام کوبہترین خدمات کی فراہمی ہو۔ چیف منسٹر نے کہاکہ آرٹی سی سے متعلق حکومت کے فیصلوں کویقینا عوام ضرور خیرمقدم کرتے ہوئے اس کی مکمل تائیدکرے گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *