آر ٹی سی ہڑتال تیسرے دن میں داخل

ٹی ایس آر ٹی سی ملازمین کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال پیر کو تیسرے دن میں داخل ہوگئی۔ تین دنوں سے جاری ہڑتال کے سبب عوام کو بے انتہا پریشانیوں کا سامنا ہے۔ اس درمیان چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کی زیر قیادت ٹی آر ایس حکومت نے ہڑتالی ملازمین کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال میں شریک ملازمین کو کسی بھی صورت میں ڈیوٹی پر رجوع ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے ہڑتالی ملازمین کو ہفتہ کی شام 6بجے تک ڈیوٹی پر رجوع ہونے کی مہلت دی تھی جس کے بعد 1200ملازمین‘ ڈیوٹی پر رجوع ہوئے تھے۔ حکومت کے اس موقف کے بعد مابقی 48ہزار ملازمین پر برطرفی کی تلوار لٹک رہی ہے مگر حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی نیا بیان جاری نہیں کیا ہے۔ ہڑتال کے تیسرے دن بھی 10,500میں سے بیشتر بسیں‘ سڑکوں سے غائب رہیں جس کے سبب بتکماں ودسہرہ تہوار سے قبل عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ آر ٹی سی بسوں کے ذریعہ ہر روز تقریباً ایک کروڑ افراد ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل ہوتے ہیں۔ آر ٹی سی انتظامیہ‘ عارضی ڈرائیوروں کے ذریعہ جزوی طورپر ہائر بسیں چلا رہا ہے۔ دریں اثناء اسمبلی کے سامنے یادگار شہیدان تلنگانہ کے پاس اس وقت کشیدگی پھیل گئی جبکہ آر ٹی سی ملازمین کے یونینوں کے عہدیدار‘ شہیدان تلنگانہ کو خراج پیش کرنے یہاں پہونچے تاہم پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا اور کہا کہ اس پروگرام کیلئے پولیس سے قبل از وقت اجازت نہیں لی گئی تھی۔ حکومت کی اس کارروائی پر آر ٹی سی جے اے سی کے قائدین نے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ جے اے سی لیڈر انے اشواتھم ریڈی نے کہا کہ علحٰدہ تلنگانہ تحریک کے دوران ہماری قربانیوں کی بدولت ٹی آر ایس برسر اقتدار آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین‘ گرفتاریوں اور حکومت کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ پولیس کی اجازت نہ ملنے پر جے اے سی نے دھرنا چوک اندراپارک پر آج منعقد شدنی بھوک ہڑتال کو منسوخ کردیا ہے۔ جے اے سی قائدین نے کہا کہ آج اجلاس منعقد کیا جائے گا وا جس میں ہڑتال کے مستقبل کے لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی۔ این ایس ایس کے بموجب سٹی پولیس نے آج اسمبلی کے سامنے گن پارک پر آر ٹی سی جے اے سی کے قائدین اشواتم ریڈی اور کے راج ریڈی کے علاوہ دیگر ملازمین کو گرفتار کرلیا۔ یہ قائدین شہیدان تلنگانہ کو خراج پیش کرنے یہاں پہونچے تھے۔ گرفتار قائدین کو مختلف پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کیا گیا ہے جبکہ اشواتم ریڈی کو مہانکالی پولیس اسٹیشن‘ سکندرآباد لے جایا گیا۔ بعد ازاں ان تمام قائدین کو ہا کردیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *