چیف منسٹر کواحکام برطرفی جاری کرنے کا چیلنج

تلنگانہ اسٹیٹ آرٹی سی ایمپلائز جے اے سی نے پیرکوچیف منسٹر کے چندرشیکھررائوکوچیالنج کیا کہ وہ آرٹی سی کے 48 ہزار ملازمین کی برطرفی کے احکام جاری کرکے دکھائیں۔ملازمین کی مختلف یونینوں پر مشتمل جے اے سی نے کہاکہ اسی طرح کے کسی احکام کوعدالت میں چیالنج کیا جائے گا۔چیف منسٹرکے چندرشیکھررائو‘ آرٹی سی کے 48 ہزار ملازمین کوبیک وقت خدمات سے برطرف کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔ انہیںاس بارے میں احکام جاری کرنے تودیجئے تمام ملازمین برطرفی کے احکام حاصل کرنے کے منتظر ہیں اورہم ان احکام کوعدالت میں چیالنج کریںگے۔تلنگانہ آرٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کنوینر اشوتھاماریڈی نے کہاکہ محکمہ آرٹی سی میں نئے ملازمین کے تقرر کے متعلق چیف منسٹر کے چندرشیکھررائوکااعلان ان کے غرور وتکبرکوظاہرکرتا ہے ۔یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہزاروںملازمین کوبیک وقت خدمات سے برطرف کرنے کا فیصلہ غیر جمہوری ہے ۔ ریڈی نے کہاکہ کل تک محکمہ آرٹی سی کے تحفظ کے لئے جدوجہدکی گئی تھی اب ریاست میں جمہوریت کی برقراری کے لئے جدوجہد کرنا پڑرہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھررائو تحریکوںسے خوف زدہ ہیں ۔ ٹی ایس آرٹی سی کوبچانے اور ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کے لئے فوری اقدامات کیا جانا چاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت آرٹی سی کوخانگیانے کا منصوبہ رکھتی ہے تاہم عوام اور ملازمین ‘حکومت کے اس منصوبہ کوکبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 48ہزار ملازمین کوبرطرف کرنے کا اعلان کیاگیا ۔اس اعلان کوتحریری شکل میں کب فراہم کیا جائے گا حکومت کواس کا جواب دینا چاہئے ۔آرٹی سی ملازمین ان احکامات کوحاصل کرنے تیار ہیں اور انہوں نے آگے کی لڑائی عدالت میں لڑنے کا اعلان کیا۔تلنگانہ مزدور یونین کے صدر ای اشوتھاماریڈی نے نشاندہی کی کہ ہڑتالی ملازمین کو کسی بھی قسم کی کوئی بھی نوٹس نہیں ملی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملازمین کی تقرری قواعد کے مطابق کی گئی ہے ملک میں قانون نام کی بھی کوئی چیز ہے اور نوٹس دیئے بغیر کسی کو بھی ملازمت سے برطرف نہیں کیاجاسکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *